مزید خبریں

Jamaat e islami

لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وفد کی ایرانی سفیر سے ملاقات

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی و سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی قائدین کے وفد نے اسلامی جمہوری ایران کے سفیر حامد عباس الفتاح سے ملاقات کی۔ پاک-ایران تعلقات، اسلامی، دینی ہمسائیگی کی بنیاد پر بہت گہرے اور مضبوط ہیں، تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی ہر استعماری، استکباری کوشش ناکام ہوگی۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی عوامی انقلاب، اسلام کے ابدی اور سُنہری اصولوں پر آج بھی مستحکم اور اِس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ابتدائی 8 سال میں سازشوں اور جنگوں کے تسلط کا عروج تھا۔ ایران کے عوام نے اُس وقت بھی کامیاب مزاحمت کی، آج بھی ایرانی قیادت اور عوام ہر بیرونی سازش کو ناکام بنادیں۔ وفد کی ملاقات میں اظہارِ خیال کیا گیا۔ملی یکجہتی کونسل کا وفد خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ناصر شیرازی، علامہ عارف حسین واحدی، عبداللہ گل، علامہ سید ثاقب اکبر، پیر عبدالشکور نقشبندی، ڈاکٹر طارق سلیم، مفتی گلزار نعیمی، سید عارف شیرازی، پیر صفدر گیلانی پر مشتمل تھا۔ ایرانی سفارت خانے میں باہمی تعلقات، اتحادِ عالمِ اسلامی، مسلمانوں کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں اور پاک،ایران اقتصادی تعلقات پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔ ایرانی سفیر نے وفد کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ سفارت خانے کے سینئر سفارت کار بھی ملاقات میں شریک تھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے مضبوط، مستحکم تعلقات خطے میں بدامنی، دہشت گردی اور عدم استحکام کی تمام سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات پوری عالمِ اسلام کی دِلی خواہش ہے۔ امریکی سرپرستی میں دہشت گرد داعش کے سدباب کے لیے تینوں ممالک کا مشترکہ ایکشن پلان ناگزیر ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے عوام سے یکجہتی اور آزادی کے لیے ایرانی مؤقف جرأت مندانہ اور حوصلہ افزا ہے۔ اقتصادی بحرانوں اور کساد بازاری کے حل کے لیے عالم اسلام کا اتحاد اور مشترکہ اقتصادی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران میں حالیہ بدامنی کے واقعات سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ایران کی خواتین حجاب اور تقدس کے ساتھ ایرانی ترقی کا مضبوط ستون ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی اور مضبوطی کے لیے 5 مذاکراتی دور ہوچکے ہیں۔ چھٹا دور عراق کی میزبانی میں ہورہا ہے۔ یمن اور شام میں جنگ کے خاتمے کے لیے یمن اور شام کے عوام خود آپس میں بات کریں۔ ایران آج بھی 5 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ ایران پاکستان اور افغانستان میں تعلقات کی مضبوطی کے لیے سفارتی، عوامی اور علما کرام کی سطح پر کوششیں بہت مفید ہوں گی۔