مزید خبریں

Jamaat e islami

مراکش کے خوابوں کا ہیرویاسین بونو

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )مراکش فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی عرب اور پہلی افریقی ٹیم بن چکی ہے۔اگر مراکش کی ٹیم دفاعی چمپئن فرانس کو دوسرے سیمی فائنل میں شکست دے دیتی ہے تو ایک اور نئی تاریخ رقم ہوجائے گی۔ ماہرین کا متفقہ تجزیہ ہے کہ مراکش کی ورلڈکپ سیمی فائنل تک رسائی بہترین دفاع کا نتیجہ ہے اور اب تک اس کے خلاف حریف ٹیمیں ایک گول بھی نہیں کرسکیں بس کینیڈا کے خلاف میچ میں ایک اون گول ہوا۔یہ ٹیم 4-1-4-1 کے دفاعی بلاک کی شکل میں کھیلتی ہے اور مخالف ٹیم کے پاس مڈفیلڈرز اور ڈیفنس سے بچ کر نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔مگر جب مخالف ٹیم ان دیواروں کو عبور کرلیتی ہے تو اس کا سامنا مراکشی گول کیپر یاسین بونو سے ہوتا ہے اور پھر احساس ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی تو ہر وقت مسکراتا رہتا ہے۔ہر وقت مسکراتے چہرے والا یہی کھلاڑی مراکش کے خوابوں جیسے سفر کا ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔اسپین کے خلاف پری کوارٹر فائنل میچ کے دوران پنالٹی ککس کو روکتے ہوئے 31 سالہ گول کیپر کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی رہی۔مراکش فٹبال ٹیم کے سابق گول کیپنگ کوچ کرسٹوفر ریول کے مطابق اگر یاسین بونو مسکرا نہیں رہے تو یقیناً پھر کوئی مسئلہ ہے۔اپنے اکثر انٹرویوز میں یاسین بونو جواب دینے سے پہلے کچھ دیر سوچتے ہیں اور پھر جواب دیتے ہیں۔جس سے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ اگر وہ فٹبالر نہیں ہوتے تو ایک عالم یا استاد ہوتے۔یاسین بونو کی پیدائش کینیڈا کے شہر مانٹریال میں ہوئی تھی اور جب وہ 3 سال کے ہوئے تو ان کا خاندان مراکش کے شہر کاسابلانکا منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے مراکش کے ایک بہترین فرانسیسی سیکنڈری اسکول میں داخلہ لیا۔8 سال کی عمر میں وہ مراکش کے ایک فٹبال کلب Wydad Athletic کا حصہ بن گئے اور 2011 میں افریقی چمپئنز لیگ فائنل میں تیونس کے ایک کلب سے ان کا کیرئیر شروع ہوا۔انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ‘پہلا میچ میرے لیے بہت مشکل تھا، مجھے لگ رہا تھا کہ اگر کھیل خراب ہوا تو میرا کیرئیر نیچے جائے گا اور کھیل اچھا ہوا تو اوپر کی جانب جائے گا’۔اس میچ میں یاسین بونو کی ٹیم کو شکست ہوئی مگر ان کی کارکردگی سے متاثر ہوکر اسپین کے کلب Atletico de Madrid نے انہیں معاہدے کی پیشکش کی۔یاسین بونو نے ہسپانوی ٹیم کا حصہ بننے کی پیشکش قبول کرلی مگر وہاں انہیں زیادہ بہتر مواقع نہیں ملے تو وہ دیگر ٹیموں کا حصہ بن گئے۔ابھی یاسین بونو ہسپانوی لیگ لالیگا میں سیویلا کی نمائندگی کرتے ہیں۔لالیگا کے 2021-2022 کے سیزن کے دوران یاسین بونو کی جانب سے گول بچانے کی شرح لگ بھگ 78 فیصد تھی۔کرسٹوفر ریول کے مطابق ‘وہ ایک بہترین کیپر ہے، وہ کھیل کو بہت اچھے طریقے سے پڑھ لیتا ہے اور اس کے پیر زبردست ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سرد مزاج ہے، اگر وہ انگلینڈ یا کسی یورپی ٹیم کا گول کیپر ہوتا تو ایک اسٹار ہوتا، مگر مراکش کو زیادہ فالو نہیں کیا جاتا’۔گراؤنڈ سے باہر یاسین بونو یہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک قائد بننا چاہیے جبکہ مراکش کی ٹیم میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے ان کا تعلق بہت اچھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیت کے طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے سامنے اچھے رویے اور کردار کو پیش کرنا ضروری ہے۔انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ‘اچھا کھیلنا ہماری ذمہ داری ہے، مگر ہم اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ بیرون ملک ہم مراکش کی نمائندگی کرتے ہیں اور لوگ ہمیں اسی نظر سے دیکھتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘نور الدین اور ذکی جس طرح ہمیںآگے لے کر بڑھ رہے ہیں، اس سے ہم مراکشی بچوں کے لیے اچھی مثال قائم کررہے ہیں جو ہمارے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں’۔مراکش کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے 2022 کے ورلڈکپ میں اپنے ملک کے سفر کے ہر سیکنڈ سے محظوظ ہورہے ہیں اور ان کی خوشی میں یاسین بونو کا کردار اہم ہے۔یاسین بونو کی شادی ہوچکی ہے اور ان کا ایک بیٹا ہے۔ایک میچ کے بعد پریس کانفرنس میں مراکش کے کوچ نے بھی کہا تھا کہ جب آپ کو علم ہو کہ گول پر ہمارے پاس یاسین بونو ہے تو اس خیال سے ہمیشہ اعتماد ملتا ہے، وہ دنیا کے چند بہترین گول کیپرز میں سے ایک ہے۔مراکش کی جانب سے فرانس کے خلاف سیمی فائنل میں دفاعی حکمت عملی اپنائے جانے کا ہی امکان ہے ۔ اگر پھر بھی دفاعی چمپئن کے کھلاڑی کسی طرح دفاعی صفوں کو عبو رکرکے آگے بڑھے تو ان کے لیے یاسین بونو اور ان کی مسکراہٹ کو شکست دینا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔