مزید خبریں

Jamaat e islami

نشے اور فحش لٹریچر کے عام ہونے سے بچوں سے زیادتی و قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ڈاکٹر پروفیسر قبلہ ایاز،برطانیہ میں لنکنز اِن کی نمائندگان کمیٹی کی رکن منتخب ہونے والی پہلی پاکستانی خاتون وکیل،ویمن لائرز ایسوسی ایشن کی سربراہ اور ہائی کورٹ کی سینئر وکیل بیرسٹر زہرہ سحر ویانی،سابق ڈین سوشل سائنسز جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری اوربچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنا والی مقامی این جی او ساحل آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیزہ بانو نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے سوال ’’بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافے کے کیا اسباب ہیں؟ ‘‘کے جواب میں خصوصی بات چیت کی ہے ،اس حوالے سے پروفیسرڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافہ افسوسناک ہے، درندگی کا ایک سلسلہ ہے جس کے مظاہر ملک کے طول و عرض میں رونما ہو رہے ہیں۔ یہ دراصل ہماری معاشرتی اقدار کے درد ناک زوال کا مظہر ہیں۔ یہ واقعات، سماجی، نفسیاتی، جرمیاتی، مذہبی، معاشرتی اور معاشی پہلو سے ایک کلی (holistic) مطالعے کا تقاضا کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں جنسی ہیجان خیزی ایک ایسی معاشرتی برائی بن گئی ہے جس کی وجہ سے عوام و خواص میں بے چینی و اور تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔جب قصور میں زینب امین کا قتل ہوا تو اس وقت بھی اسلامی نظریاتی کونسل نے اس پر تفصیل سے بات کی اور ہم نے یہی سفارش کی کہ قرآن پاک میں سزا کے لیے جو طریقہ ہے اس پر عمل کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جامع تجزیے کے بعد ریاست اور معاشرے کے لیے ایک قابل عمل لائحہ عمل (roadmap) تیار کیا جائے۔ اس موضوع پر اسلامی نظریاتی کونسل نے 2 مزیدسفارشات پیش کیں ، ایک تو یہ کہ ابتدائی طور پر تھانوں کے اندر یا باہر اس گھناؤنے ، قبیح اور خطرناک جرم کے لیے خصوصی سیل قائم کرنا ضروری ہیں۔ ددوسرا یہ کہ خصوصی عدالتیں قائم ہوں تاکہ جلد ازجلد سماعت ہوسکے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 3،4 سال بعد فیصلہ ہو تا ہے جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قتل کی سزا قتل یعنی قصاص ہی ہونی چاہیے۔جرم کے خاتمے کا مقصد حاصل کرنے کیلیے حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ سفارشا ت پر غور کرے اور وزارت قانون ان کے نفاذ کی کوشش کرے۔ ملک میں ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں مظلوم کو گھر کی دہلیز پر انصاف ملے۔ بیرسٹر زہرہ سحر ویانی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام، غربت، مہنگاائی، اسلحے کے آزادانہ استعمال، نشے کی وبا، بے روزگاری اور فحش لٹریچر تک آسان رسائی کو بڑھتے جرائم کے اسباب ہیں۔اس حوالے سے معاشرے میں آگاہی کے علاوہ بچوں کی عدالتیں ہر ضلعی سطح پر ہونی چاہیے تاکہ بچہ اگر ریپ کا شکار ہوا ہے تو وہ ایک عام عدالت کے ماحول میں دوبارہ ریپ کرنے والے کے روبرو کھڑا ہونے پر مجبور نہ ہو بلکہ چائلڈ کورٹ کے محفوط ماحول میں عدالت کو بتا سکے کہ اس پر کیا بیتی تاکہ کم سے کم وہ انصاف حاصل کر سکے اور معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکے۔جنسی زیادتی کا معاملہ قومی معاملہ ہے لہٰذا اس حوالے سے وفاقی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ مْلک کا کوئی بھی شہر، قصبہ یا گائوں بچوں سے جنسی زیادتی کی وارداتوں سے محفوظ نہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اِن وارداتوں میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ والدین پریشان ہیں کہ کیا کریں؟ بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ پولیس بھی اْن کے دْکھوں کا مداوا نہیں کرتی اور نظامِ عدل بھی اِتنا پیچیدہ، طویل، مہنگا اور ناقابلِ رسائی ہے کہ زخم خوردہ اور غم زدہ والدین کی کچہریوں کی خاک چھاننے کی ہمّت ہی نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ذرائع ابلاغ محدود تھے تو نہ جانے کتنے بچّے جنسی تشدّد کا نشانہ بننے کے بعد اپنی خاندانوں کو دْکھوں کی آگ میں جھلستا چھوڑ کر چْپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جایا کرتے، لیکن جب سے میڈیا، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے وسعت اختیار کی ہے، مْلک کے کسی بھی حصّے میں رْونما ہونے والے واقعے کی گونج لمحوں میں سْنائی دینے لگتی ہے۔ شرم ناک اور انسانیت سوز واقعات کی روزانہ سامنے آنے والی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر کتنے بدنما داغ ہیں۔ منیزہ بانو نے کہا کہ بچوں سے جنسی زیادتی ایک افسوسناک مسئلہ ہے ، پاکستان میں بھی بچوں سے زیادتی کے شرمناک واقعات رونما ہو رہے ہیں اور گزشتہ چند برسوں سے ان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشرے کے دوہرے معیارپر جہاں ظالم تو سر اٹھا کے دھڑلے سے پھرتا ہے مگر مظلوم کو حقارت، ہزیمت، ہتک آمیز رویے اور حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافے کا ہی باعث بنتے ہیں۔ سخت سزاؤں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلیے انقلابی اقدامات کرنا ہونگے ،ایک بچے کے ساتھ جنسی استحصال میں قیمتی جانی نقصان کے ساتھ پورے خاندان کو نفسیاتی اور جذباتی طور پہ بھی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے مگر صد افسوس اس سماجی روایات کے پیش نظر بچوں سے جنسی استحصال کوپاکستانی معاشرے میں ہمیشہ نظر انداز کیاجاتا رہا ہے۔بچوں کا جنسی استحصال ایک جرم ہے جس کو ہر فورم پر رپورٹ ہونا چاہیے۔اس وقت والدین بچوں سے متعلق عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے ذہن سے بچوں سے متعلق خدشات کو دور کریں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کیلیے قوانین موجود ہیں۔ ضرورت صرف ان قوانین پر عملدرآمد کی ہے ۔