مزید خبریں

Jamaat e islami

جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر شفیق الرحمن کو گرفتار کرلیا گیا

ڈھاکا( صباح نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش میں حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر شفیق الرحمن کو گرفتار کرلیا گیا۔ بنگلا دیش حکومت نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ شفیق الرحمن کو ڈھاکا میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان نے الزامات کی تفصیل دیے بغیر کہا کہ انسداد دہشت گردی کے افسران نے جماعت اسلامی کے امیر کو گرفتار کیا ہے ۔ واضح رہے کئی برس تک جماعت اسلامی بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بڑی اتحادی تھی۔ ان کے اتحاد نے 2001ء سے 2003ء تک حکومت کی ۔ جب شیخ حسینہ واجد نے 2009ء میںا اقتدار سنبھالا تو جماعت اسلامی کی تمام لیڈرشپ کو حراست میں لے کر ان پر 1971ء میں جنگی جرائم کے تحت مقدمات قائم کیے ۔ الزامات کے بعد 2013ء سے 2016ء کے درمیان جماعت اسلامی کے 5رہنمائوں کو پھانسی دی گئی۔ سزائوں کے خلاف
مظاہروں میں سیکڑوں کارکنان شہید ہوئے تھے جبکہ ہزاروں کو حراست میں لیاگیا تھا۔ بنگلا دیش میں موجود اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد نا ممکن ہے۔ ان پر 2014ء اور2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا لزام ہے ۔ گزشتہ ماہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔دریں اثناترجمان جماعت اسلامی بنگلا دیش کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر کی گرفتاری کا مقصد مخالفین کو کچلنا ہے۔ یہ پارٹی کے خلاف 15سال سے جاری غیر منصفانہ جبر کی ایک اور کڑی ہے۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ روز وزیر اعظم بنگلا دیش کے خلاف مظاہروں میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔جماعت اسلامی پر 2012 ء سے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید ہے۔ بنگلا دیش میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کے شٹ ڈائون کے سبب مظاہرے جاری ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔