مزید خبریں

Jamaat e islami

ایف پی سی سی آئی نے رائس سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی حمایت کردی

کراچی(کامرس رپورٹر)وفاق ایوانہائے تجاررت وصنعت(ایف پی سی سی آئی) نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رائس سیکٹر کو انڈسٹری کا فوری درجہ دیا جائے اور دیگر 5 برآمدی صنعتوں کی طرح رائس کو بھی سستی بجلی مہیا کی جائے۔ ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے “رائس” کی دوسری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کمیٹی کنوینر رفیق سلیمان نے کہا کہ پاکستان میں کموڈٹیز میں چاول سب سے بڑا برآمدی سیکٹر ہے اس لئے حکومت رائس انڈسٹری کا درجہ دینے کا فوری اعلان کرے،حکومت اگر ایف پی سی سی آئی کی تجاویز پر عمل کرے تو تمام تر اکنامک انڈیکیٹر بہتر ہوسکتے ہیں،حکومت نے وعدے کے باوجود سیلاب سے متاثرہ چاول کے زمینداروں کومالی مدد فراہم نہیں کی ہے،اگر کسان کے پاس پیسہ نہیں ہوگا تو وہ چاول،گندم یا کوئی دوسری فصل کیسے لگائے گا اس لئے حکومت اپنا وعدہ فوراً پورا کرے۔ اجلاس میں فیڈریشن چیمبر کے سینئرنائب صدر سلیمان چائولہ، نائب صدر شبیرمنشا چھرا، چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن چیلا رام ،صدر لوئر سندھ رائس ملز ایسوسی ایشن اورجوائنٹ سیکریٹری سندھ،بلوچستان رائس مل ایسوسی ایشن فاروق احمدچھیپا،جاوید جیلانی،فیصل انیس اوردیگر ممبران بھی شریک تھے۔ رفیق سلیمان نے کہا کہ حکومت سندھ نے یہ واضح کیا ہے کہ سندھ میں70فیصدچاول کی فصل متاثر ہوئی ہے حالانکہ نان باسمتی چاول کی ایکسپورٹ میں 15فیصد کمی آئی ہے جبکہ ملرز کایہ کہنا ہے کہ فصل 30فیصد متاثر ہوئی اس طرح حکومت کے اعداد وشمار غلط ہیں۔انکا کہنا تھا کہ پنجاب میں چاول کی فصل بمپر ہوئی ہے اور باستمی ایکسپورٹ پچھلے سال کی نسبت زیادہ رہے گی اور قیمت بھی زیادہ ملے۔رفیق سلیمان نے کہا کہ ماہ جولائی تا اکتوبر 2022میں 18 کروڑ14 لاکھ81 ہزار ڈالر مالیت کا 1لاکھ70ہزار774میٹرک ٹن باسمتی چاول اور36کروڑ34لاکھ83ہزارڈالرز مالیت کا7لاکھ25ہزار662میٹرک ٹن نان باسمتی چاول برآمد کیا گیا ہے۔