مزید خبریں

Jamaat e islami

ایرانی ریڈ یو اور ٹیلی وژن پر یورپی پابندیاں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے تہران کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں ایران کے مزید 20افراد اور اداروں کو شامل کر لیا ۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اجلا س کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی پابندیاں ایران میں حالیہ مظاہروں سے پرتشدد طریقہ سے نمٹنے کے باعث لگائی گئی ہیں۔ان قدغنوں کی زد میں میں ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کارپوریشن بھی آگئے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ یوکرین کی جنگ سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 4ایرانی شہریوں اور 4اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں نائب وزیر داخلہ مجید میر احمدی ، ایرانی ریڈیو اور ٹیلی وژن کارپوریشن کے ڈائریکٹر پیمان جبلی اور ان کے نائب محسن بر مہانی سمیت پارلیمانی رکن احمد خاتمی اور دیگر ماہرین بھی شامل ہیں۔ واضح کیا گیا کہ یہ پابندیاں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کیے گئے ڈرونز کی تیاری اور ترسیل میں ان افراد اور اداروں کے ملوث ہونے کی روشنی میں لگائی گئی ہیں۔یورپی یونین نے مزید کہا کہ ان پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، یورپی یونین میں سفر پر پابندی اور فہرستوں میں شامل افراد سے فنڈز یا اقتصادی وسائل کو روکنا شامل ہے۔ وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں یمن، لبنان، شام اور عراق میں ایران کی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ خلیجی خطے میں سلامتی اور آمدورفت کی آزادی کو ممکن بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔