مزید خبریں

Jamaat e islami

ٹرائیکا نے اداروں کو تباہ اور معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، سراج الحق

 

دیر/ لاہور(نمائندگان جسارت)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے طرزِ حکمرانی نے ملک کو مفلوج کر دیا۔ حکمران جماعتوں کے ٹرائیکا کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ان کی تابعداری کرے، جماعت اسلامی اداروں کو نیوٹرل دیکھنا چاہتی ہے۔ حکمرانوں کی سیاست ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے، انھوں نے مل کر اداروں کو تباہ اور معیشت کا بیڑہ غرق کیا۔ ملک کو بیرونی این جی اوز کا اصطبل بنانے والے حکمرانوں سے بہتری کی قطعی توقع نہیں۔ حکمران جان لیں ملک بیرونی قرضوںاور بھیک پر نہیں چلتے۔ دعوئوں اور نعروں کے بجائے حکمران جماعتیں عوام کو اپنی کارکردگی بتائیں۔ مارشل لاز کی حکومتیں اور نام نہاد جمہوری ادوار ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو گئے، اب اسلامی نظام کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنے کا حکم دیا ہے، جماعت اسلامی اسی حکم کی پیروی کرتے ہوئے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، ہماری لڑائی فرسودہ نظام سے ہے، ہم اسٹیٹس کو سے نجات حاصل کرنے تک محنت جاری رکھیں گے۔ وہ دیرپائن کی تحصیل مُنڈا میں قبائلی عمائدین اور منتخب کونسلرز کی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ امیر ضلع اعزاز الملک افکاری اور منڈا تحصیل کے سابق ناظم ہمایون خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، صوبے میں کرپشن عام، ہر محکمے میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش، خوف کے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہیں، اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، صوبے کی پولیس لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے۔10 سال سے خیبرپختونخوا پر حکومت کرنے والی پی ٹی آئی نے ہر شعبہ تباہ کر دیا۔ تعلیم اور صحت بری طرح متاثر ہیں۔ دنیا میں بہتری کے کاموں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اور جرائم کا ریشو بڑھ رہا ہے۔امیر جماعت نے کہا کہ مرکزی حکومت مہنگائی کم کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی، ڈالر کی قیمت نیچے آئی نہ معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ عوام حکمرانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ نوجوان قوم کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیوں پر خاندانوں اور افراد کی اجارہ داری ہے۔ معاشرے کے پڑھے لکھے عام نوجوانوں کے لیے ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے کلبز میں کوئی جگہ نہیں، یہ حکمران کبھی نہیں چاہتے کہ عام فرد پارلیمنٹ میں جائے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو نوجوانوں کو آگے لاناچاہتی ہے تاکہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کریں اور اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شریک کرتی ہے، جماعت اسلامی کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو پاکستان کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ جماعت اسلامی میں ہر اہل اور ایمان دار شخص کے لیے آگے بڑھنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو سوچنا ہو گا کہ اسی گھسے پٹے نظام کے ساتھ زندہ رہنا ہے یا آئندہ نسلوں کے لیے خوشحال اسلامی پاکستان بنانا ہے۔ اب فیصلے کی گھڑی ہے، آزمائے ہوئے سیاسی جماعتوں سے بہتری کی توقع نہیں، موجودہ حکمرانوں کو جتنا وقت ملے گا ملک پیچھے جائے گا۔