مزید خبریں

Jamaat e islami

وزرائے اعظم، فوجی سربراہان اور ججوں کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ پی اے سی میں طلب

 

اسلام آباد (آن لائن/ مانیٹرنگ ڈیسک) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزرائے اعظم، فوجی سربراہان اور ججز کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ کا گزشتہ 10 سال کا ریکارڈ طلب کرلیا۔منگل کو پبلک اکائونٹس کے اجلاس کے دور ان نور عالم خان نے کہا کہ ججوں اور بیوروکریٹس سمیت تمام افرادکو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ پیش کیا جائے، آڈیٹرجنرل سیاستدانوں سمیت سب کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ پیش کریں۔ پی اے سی نے توشہ خانہ کا 10سالہ ریکارڈ نیب حکام کو فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فوری طور پر ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ،کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت میں نیب حکام کے زیر قبضہ سرکاری بلڈنگ 15دنوں میں خالی کرکے اسٹیٹ آفس کو بقایا جات سمیت واپس کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری ہائوسنگ، ڈی جی پاک پی ڈبلیو ڈی، آڈیٹر جنرل اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت ہائوسنگ کے مالی سال 2019-20ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں چیئرمین کمیٹی کے استفسار پر آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ توشہ خانہ کا ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا ہے تاہم انہوںنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ریکارڈ دینے سے انکار کیا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ توشہ خانہ ملک کی امانت ہے اور اس میں خیانت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی ہے‘ صدر، وزیر عظم ،آرمی چیف، عدلیہ، وفاقی وزرا اور بیوروکریسی کو جو بھی تحائف ملتے ہیں وہ ان کو ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ عہدے کی وجہ سے ملتے ہیں لہٰذا ان کی تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ 10سالہ ریکارڈ آڈٹ حکام کو فراہم کیا جائے۔ اجلاس کے دوران آڈٹ حکام نے بتایا کہ کراچی میں 487مکانات ، دکانوں اور پیٹرول پمپس کے کرایوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے 87کروڑ روپے سے زاید نقصان ہوا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کسی بھی حکومتی عہدیدار کو سرکاری مکانات مالکانہ حقوق پر دینے کا اختیار نہیں ہے‘ اگر کسی نے ایسا اقدام اٹھایا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کمیٹی نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔