مزید خبریں

عوام کیلیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی شرح بڑھتی جارہی ہے ،ہارون شمسی

کراچی ( بزنس رپورٹر ) فیڈرل بی ایریا ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون شمسی کا کہنا ہے کہ کیپٹیو پاور پلانٹس کو سبسڈی دے کر کراچی کے ڈھائی کروڑ شہریوں کو سزا دی جا رہی ہے گیس کی فراہمی کی ترجیحات کی مسلسل خلاف ورزی کے نتیجے میں عام آدمی کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ہارون شمسی نے کہا کہ پہلے سے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عام آدمی کو بجلی کے بلوں کے ذریعے منتقل ہونے والی فیول چارج ایڈجسٹمنٹ میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ وفاقی حکومت 700 بااثر کیپٹیو پاور کمپنیوں کو گیس اور بجلی پر سبسڈی دے رہی ہے ۔وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی 2018 میں کیئے گئے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کراچی الیکٹرک کو انتہائی مہنگے نرخوں درآمدی آر ایل این جی فراہم کر رہی ہے ، جس کے نتیجے میں لاکھوں گھرانوں اور ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 45 روپے تک پہنچ چکی ہے ، فیڈرل بی ایریا آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور دیگر تجارتی انجمنیں کئی مہینوں سے وفاقی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ایس ایس جی کو گیس مختص کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کا پابند بنائے اور غیر منصفانہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے پاور پلانٹس کو قدرتی گیس کی فراہم کرنے کی ہدایت دے ۔صدر فباٹی نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، خرم دستگیر وزیر بجلی، مصدق ملک وزیر پٹرولیم، شاہد خاقان عباسی چیئرمین انرجی ٹاسک فورس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں شاہد خاقان عباسی نے ایس ایس جی سی کو ہدایت کی گئی کہ وہ کراچی الیکٹرک کو کم از کم 130 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس فراہم کرے لیکن ایس ایس جی سی اس فیصلے کی خلاف کے الیکٹرک کو یومیہ 80 ملین مکعب فٹ گیس فراہم کر رہی ہے ، جس کی قیمت میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ہارون شمسی کا کہنا تھا کہ نیپرا قواعد اور ضوابط کے تحت فیول ایڈجسمنٹ چارجرز کے زریعے ایندھن کی قمتیوں کا اثر صارفین تک منتقل کرتا ہے لیکن اگر ایف سی اے کو اسی طرح بڑھایا گیا تو چالیس ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں جو ہزاروں خاندانوں کی کفالت کرتی ہیں ان کو بند کرنے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا، ہمیں خدشہ ہے کہ اس مشکل صورتحال میں بے روزگاری شہر میں امن ا مان کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔