مزید خبریں

Jamaat e islami

کاروبار کراچی واپس لانے والے کم سیلز ٹیکس دیں ،ڈاکٹر واصف

کراچی(جسارت ر پورٹ)چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ ( ایس آر بی) ڈاکٹر واصف علی میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے آئی ٹی سافٹ ویئر، بزنسز اور کال سینٹرز پر سندھ سیلز ٹیکس کو 13 فیصد سے کم کرکے صرف 3 فیصد کردیا ہے۔ تمام متعلقہ کاروبار جو دوسرے صوبوں میں منتقل کیے گئے ہیں انہیں کراچی واپس آنا چاہیے جہاں وہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم سیلز ٹیکس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ کراچی چیمبر کے ممبران کو آئی ٹی سے متعلقہ تاجروں جو لاہور یا کسی اور شہر میں منتقل ہو گئے ہیں انہیں کراچی واپس آنے کا مشورہ دینا چاہیے جہاں ان سے ان پٹ ٹیکس کے بغیر محض 3 فیصد ایس ٹی وصول کیا جائے گا جبکہ بڑے ادارے جو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے ساتھ معیاری شرح کو ترجیح دیتے ہیں ان کے پاس ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی سہولیات کے ساتھ 13 فیصد کا انتخاب کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم جی) زبیر موتی والا (بذریعہ زوم)، وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری اے کیو خلیل، صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سابق صدر یونس بشیر ، ایس آر بی کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ مشیر ایس آر بی مشتاق کاظمی اور کے سی سی آئی منیجنگ کمیٹی کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر واصف نے کہا کہ ایس آر بی نے گزشتہ مالی سال کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 153ارب روپے کاریکارڈ توڑ ٹیکس جمع کیا گیا۔اس لیے حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے جو کراچی کی تاجر برادری کے تعاون سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے کیونکہ کراچی کی تاجر برادری ٹیکس ادائیگی میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبائی مرض کے پھیلنے اور بارشوں کے غیر معمولی سلسلے جس نے بہت سے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا اس کے باوجود کراچی کی تاجر برادری باقاعدگی سے اور خلوص نیت سے ایس آر بی کو ٹیکس ادا کر رہی ہے جس کا ہم بخوبی اعتراف کرتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگرچہ کراچی ایس آر بی کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے لیکن ایس آر بی کی سرگرمیاں صرف اس شہر تک محدود نہیں ہیں کیونکہ حیدرآباد، بینظیر آباد، لاڑکانہ، سکھر اور میرپورخاص میں ایس آر بی کے ریجنل دفاتر بھی کھولے گئے ہیں جبکہ گھوٹکی میں ایس آر بی آفس کا بھی جلد افتتاح کیا جائے گا۔ چیئرمین ایس آر بی نے صدر کے سی سی آئی محمد ادریس کی تجویز کے جواب میں کراچی چیمبر کے اراکین کو براہ راست ہیلپ لائن کی فراہمی کے ساتھ کے سی سی آئی ایس آر بی کی ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا تاکہ ان کے ٹیکس کے تمام مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے اپنے ریمارکس میں نشاندہی کی کہ اگرچہ کراچی ایس آر بی کو 94 فیصد ٹیکس دیتا ہے لیکن یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ اس شہر کو اس کی بے مثال شراکت کے مطابق خاطر خواہ ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے جس کے نتیجے میں کراچی کا معیار زندگی بری طرح گرگیا ہے اور کاروبار کرنا بھی دشوار ہے۔ صوبائی خزانے میں ہم جو حصہ ڈالتے ہیں اسے ہمیشہ اجاگر اور سراہا جاتا ہے قبل ازیں صدر کے سی سی آئی محمد ادریس نے چیئرمین ایس آر بی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کے سی سی آئی کی طرف سے اجاگر کیے جانے والے مسائل کے حل کے لیے فوری جوب دیے جانے اور ایس آر بی کے اہلکاروں کی جانب سے خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہمہ وقتی سنجیدگی اور کوششوںکو سراہاتاہم ایس آر بی قوانین میں بے ضابطگیوں کے ساتھ ٹریول ایجنٹس اور انڈینٹرز و دیگر کاروباری اداروں کئی زیر التواء ٹیکس کے مسائل ہیں جن پر وسیع پیمانے پر بحث اور زمینی حقائق کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔