مزید خبریں

Jamaat e islami

حیدرآباد: ماسٹر الطاف حسین کے بیٹے کا والد کو قومی اعزاز سے نوازنے کا مطالبہ

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سرفراز کالونی کے رہائشی اور پاکستان کا پہلا قومی پرچم تیار کرنے والے ماسٹر الطاف حسین کے بیٹے ظہور الحسن نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی پاکستان کے لیے کی گئی تاریخی خدمت کے پیش نظر ان کا نام پاکستان کے پہلے جھنڈے تیار کرنے والے کے طورپر شامل اور انہیں قومی اعزاز سے نوازا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد ماسٹر الطاف حسین مسلم نیشنل گارڈ میں سالار اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خصوصی دستے میں شامل تھے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح نے انہیں قومی پرچم تیار کرنے کا حکم دیا اور 3 جون 1947ء میں میرے والد ماسٹر الطاف حسین نے پہلا قومی پرچم تیار کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا جس کا ثبوت امریکی صحافی مس مارگریٹ بورک وائٹ نے میرے والد کے نیشنل گارڈ کی وردی میں اور پھر قومی جھنڈا تیار کرتے ہوئے کرول باغ دہلی میں تصویر اپنے لائف میگزین میں 18اگست 1947ء کے شمارے میں شائع کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے سول ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا جو آج تک نہیں ملاجبکہ ان کے ورثاء کو بھی حکومت پاکستان نے ابتک کچھ نہیں دیا ہے جبکہ 2016ء میں کمشنر حیدرآباد کی طرف سے پہلے قومی جھنڈے کی تیاری کی تحقیقات کے سلسلے میں میرے والد کا پہلا قومی جھنڈ تیار کرنے کی تصدیق کی اور سول ایوارڈ کا نام شامل کرنے کے لیے چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھا، چیف سیکرٹری سندھ نے قومی اعزازات میں سول ایوارڈ کے لیے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو خط لکھا لیکن 6 سال گزرنے کے باوجود ملکی سطح پر میرے والد ماسٹر الطاف حسین مرحوم کو قومی اعزازات اور سول ایوارڈ سے محروم رکھا گیا جو ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔