مزید خبریں

Jamaat e islami

روپے کے مستحکم ہونے تک سونے کی درآمدات کو کم کیا جائے

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) وزارت کامرس نے سفارش کی ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کے مستحکم ہونے تک سونے کی درآمدات کو کم کیا جائے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس سینیٹر فدا محمد کی کنوینئر شپ میں سونے کی درآمدات پر بریفنگ کے لیے بلایا گیا۔اجلاس میں سینیٹر محمد عبدالقادر اور وزارت تجارت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔کمیٹی نے صنعت کو چیلنج کرنے والے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ درآمدی پالیسی کی تفصیلات بھی بتائی گئیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وقت پاکستان میں سونے کی درآمد ٹرسٹمنٹ اور سیلف کنسائنمنٹ اسکیموں کے تحت ہوتی ہے۔ سیلف کنسائنمنٹ اسکیم کے تحت ایک جیولر مقامی طور پر خریدی گئی قیمتی دھاتوں اور جواہرات سے بنے زیورات برآمد کر سکتا ہے اور اس طرح کی برآمدی آمدنی کا 50 فیصد سونے کی درآمد کی صورت میں وصول کرنے کی اجازت ہے۔وزارت کامرس کو ملک کی سہولت کے لیے سخت پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لیے جیمز اینڈ جیولری سیکٹر سے نمائندہ قیادت ملی ہے۔ وزارت کو اس معاملے سے متعلق وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے جواہرات اور زیورات اور ٹیکس محتسب سے بھی سفارشات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے مطابق جواہرات اور زیورات کی ایک کمیٹی وزارت کامرس نے بنائی ہے اس میں ایف بی آر۔اسٹیٹ بینک۔وزارت کامرس اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کی نمائندگی شامل تھی۔ ترامیم کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت صفر فیصد ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی کم کیا گیا ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر وزارت نے سفارش کی کہ ڈالر کے مستحکم ہونے تک سونے کی درآمدات کو کم کیا جائے۔