مزید خبریں

Jamaat e islami

کراچی میں ایمر جنسی نافذ کر کے نالوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت کی جائے ، حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی (اسٹاف ر پورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیاہے کہ فوری طور پر شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کرکے ندی نالوں کی صفائی کا انتظام کیا جائے اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت کی جائے ، محکمہ موسمیات نے بارش کی مزید پیش گوئی کی ہے اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہے ،شہر میں اس وقت فوری اور شفاف بلدیاتی انتخابات کی ضرورت ہے ، الیکشن کمیشن 28اگست کو بلدیاتی انتخابات کروائے ، پرانے پیپرز کو ضائع کر کے نئے بیلٹ پیپرز نئے کلر میں شائع کیے جائیں ،پیپلزپارٹی کے غیر قانونی و سیاسی ایڈمنسٹریٹر کو نا اہلی و ناقص کارکردگی کی بنیاد پر برطرف کیا جائے ،امن و امان قائم رکھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت پولنگ اسٹیشنز پر فوج اور رینجرز اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ شہری آسانی کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں،ڈی سی آفسز کرپشن کے گڑ ھ بن گئے ہیں ،سندھ حکومت کراچی کے عوام کو تنگ کر نا بند کرے اور انٹر میڈیٹ میں داخلے کے لیے طلبہ و طالبات کے ڈومسائل کی شرط ختم کی جائے ۔مردم شماری کے حوالے سے ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ٹی اوآرز عوام کے سامنے لائے جائیں اور ہر شہری کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جان سکے کہ اس کو شمار کیا گیا ہے یا نہیں،مزاحمت اور جدو جہد کے تمام آئینی و قانونی اور سیاسی طریقے استعمال کریں گے لیکن مردم شماری میں دھاندلی قبول نہیں کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں بلدیاتی انتخابات ‘بارش کے بعد ایک بار پھر شہر کی بدترین صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امراء کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،راجہ عارف سلطان،مسلم پرویز،سیکر یٹری کراچی منعم ظفرخان،امیر ضلع ائرپورٹ توفیق الدین صدیقی سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ انٹرمیڈیٹ میں داخلے کے خواہش مند لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے لازم کردیا گیا ہے کہ وہ ڈومسائل بنائیں،جس کے نتیجے میں ڈی سی آفسز میں کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے ،پہلے ہی کراچی کے نوجوان بے روزگار ہیں ، انہیں سرکاری سطح پر تعلیم دی جاتی ہے اور نہ ہی صحت کا کوئی مؤثر نظام ہے ،سندھ حکومت عوام کو کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے ، کون سی ایسی وجہ ہے کہ طلبہ و طالبات کے لیے ڈومسائل کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کی جارہی ہیں ۔الیکشن کمیشن کی ناک کے نیچے پیپلزپارٹی اپنے جھنڈا لگا کر کام کررہی ہے اور اب تو ایم کیو ایم بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر سرکاری گاڑیوں کے ذریعے جھنڈے لگا رہی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ سندھ حکومت کا بھی فارنزک آڈٹ کیاجائے اور پوچھا جائے کہ ترقیاتی ، تعلیمی و صحت کے فنڈز کہاں خرچ کیے گئے ؟بدترین کرپشن کی جارہی ہے ،ڈیڑھ ماہ سے مسلسل بارش کے باوجود نالے صاف نہیں کیے جارہے ،آج بھی ندی نالوں میں سیوریج کا پانی بھرا ہوا ہے ،گندگی اور کوڑا کرکٹ کی وجہ سے نالے اوورفلو ہوجاتے ہیں جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے غیر قانونی سیاسی ایڈمنسٹریٹر اعلانات کرتے پھرتے ہیں کہ بارش کے بعد شاہراہ فیصل ،یونیورسٹی روڈ کا پانی صاف کردیا لیکن عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے ،شہر کے ہر ضلع میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیںجس کی وجہ سے عوام روزانہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے میں مجبور ہیں ،عوام کے لیے پہلے ہی کوئی بہتر ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے ، جبکہ دوسری جانب ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر خواتین ،بچے ،بوڑھے اور مرد چنگ چی رکشوں اور بسوں کی چھت پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ،انہوں نے کہا کہ شہر میں اس وقت بدترین لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ، کے الیکٹرک مافیا حکومت اور نیپرا کا شیطانی اتحاد بناکر کراچی کے عوام پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے ،تمام حکومتیں اور حکمران پارٹیاں ابراج گروپ کے بانی سی ای او عارف نقوی کے ساتھ مل کر کر اچی کے لوگوں کا استحصال کرتی رہی ہیں ،کے الیکٹرک نے کراچی کے عوام کے 42 ارب روپے کلاء بیک کی مد میں واپس کرنے تھے جو ابھی تک واپس نہیں کیے لیکن کوئی حکومت اور پارٹی عوام کا یہ حق دلوانے کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ کے الیکٹرک کو فوری قومی تحول میں لے کر اس کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ الحمدللہ کراچی کے عوام کی رائے اب بدل رہی ہے کہ عوام ان تمام مافیاؤں سے جن چھڑانے کے لیے تیار ہیں ،28اگست کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے عوام بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر مہر لگا کر کامیاب کرائیں گے ۔