مزید خبریں

Jamaat e islami

حیدرآباد،منشیات کے اڈوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ضلعی پولیس افسران نے تھانہ پھلیلی، پنیاری، ہٹڑی، بلدیہ، ٹنڈو یوسف، فورٹ، لطیف آباد اے سیکشن ،بی سیکشن سمیت تقریبا تمام ضلع میں مین پوری کی تیاری وفروخت اورجوئے سٹے اورمنشیات کے اڈوں کے خلاف بڑے کریک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔ ذمے دارذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس افسران یوم عاشورہ سے قبل تمام حکمت عملی تیار کرچکے ہیں، اور اس سلسلے میں سی آئی اے انچارج منیرعباسی کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ ایس ایس پی امجد شیخ کے پی ایس اوانسپکٹرایاز کھیڑوکو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منیرعباسی کو ایس ایچ او ہٹڑی تعینات کرنے عندیہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس تعیناتی کو قبول کرنے سے معذرت کی ہے، دوسری طرف پھلیلی، پنیاری، فورٹ، ٹنڈو یوسف سمیت کئی تھانوں کی حدود میں پریٹ آباد کے رہائشی ارشد دھوبی گروہ اورشہزاد عرف بھورا گروہ کو مین پوری تیاری وفروخت کرنے کی خالد عرف کانڑانامی شخص کے ذریعے لاکھوں روپے ہفتے کے عوض موکل دی گئی ہے،چند سال قبل مذکورہ دونوں گروہ چھوٹے پیمانے پر مین پوری تیار وفروخت کرتے تھے لیکن پولیس سرپرستی میں انہوں نے 5سے زائد تھانوں کی حدود پر اپنا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے مین پوری کے ساتھ ساتھ جوئے سٹے کے اڈے بھی قائم کر دیے ہیں اوردرجنوں بے روزگارنوجوانوں کو اس کاروبار سے منسلک کردیا ہے، اسی طرح شاہی بازار ستھراگلی میں کئی عشروں سے ہیروین اورشراب فروخت کرنے میں ملوث ماٹو نامی شخص نے بھی اپنا کاروبارایک بارپھر شروع کردیاہے،تھانہ اے سیکشن کی حدود میں ایک پولیس اہلکار اور اس کا بیٹا تمام لطیف آباد میں 2100، سفیہ، جے این ڈی سمیت دیگر طرح کا سوکھاگٹکا فروخت کرنے میں ملوث ہے،چند سال قبل مذکورہ پولیس اہلکار کو ایک گیسٹ ہائوس پر شراب کی سپلائی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیاگیاتھا،ضلع بھر میں سماج دشمن عناصر کی سرگرمیوں کی اصل وجہ تقریبا تمام تھانوں پر ایس ایچ اوز نے اپنے پرائیوٹ لوگوں کو رکھا ہوا ہے جو اسپیشل ڈیوٹی کے نام پرتمام غیرقانونی سرگرمیوں سے ہفت واربھتے وصول کرتے ہیں،اورجن سماج دشمن عناصر کو غیرقانونی سرگرمیوں کی موکل دی گئیں ہیں، ان کی جانب سے درجنوں واٹس اپ گروپ بھی بنائے گئے ہیں جن میں روزانہ پولیس افسران کی نام نہاد کارروائیوں کے شاخسانوں کی خبریں چلائی جاتی ہیں ،جبکہ کئی سماج دشمن عناصر کے واٹس اپ گروپس تو باقاعدہ تھانوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں اور پولیس افسران میڈیا یا پولیس ترجمان سے قبل ان گروپوں کے ذریعے اپنی کاروائیوں کی تشریح کراتے ہیں۔