مزید خبریں

Jamaat e islami

پاک ترکی تجارتی معاہدہ ، حکومت نجی شعبے کو اعتماد میں نہ لے سکی

کراچی(کامرس رپورٹر)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین ترجیحی تجارتی معاہدہ( پی ٹی اے) نجی شعبے سے مشاورت کے بغیرملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ جب پاک چین تجارتی معاہدہ طے پایا تھا پاکستان اس معاہدے کی حقیقی صلاحیت کا ادراک نہیں کر سکا جبکہ چین پاکستان کو کافی زیادہ مقدار میں مصنوعات برآمد کرنے میں کامیاب رہا جس سے ہماری ادائیگیوں کے توازن (بی او پی) کی پوزیشن خراب ہو گئی۔حکومت پاکستان کی جانب سے ترکی کے ساتھ 12 اگست 2022 کو ترجیحی تجارتی معاہدے ( پی ٹی اے) پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان نے ترکی کو تقریباً 220 مصنوعات پر ڈیوٹی چھوٹ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ ترکی نے پاکستان کو تقریباً 120 مصنوعات پر چھوٹ دی ہے تاہم وزارت تجارت نے پی ٹی اے پر مشاورت کے لیے نجی شعبے کو اعتماد میں نہیں لیا۔اسماعیل ستار نے یک بیان میں کہا کہ وزارت تجارت نے نجی شعبے سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان میں نجی شعبے کی نمائندگی کرنے والے اعلیٰ اداروں ای ایف پی اور ایف پی سی سی آئی سے کوئی مشاورت کی۔ پاکستان ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے نجی شعبے کی مشاورت کے بغیر پی ٹی اے کے تحت بڑھتی ہوئی درآمدات کے نتیجے میں معیشت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان شعبوں میں بین الاقوامی سطح پر مسابقتی رہے جن میں مذکورہ ملکوں کو مسابقتی برتری حاصل ہے۔اگر معاہدہ جس میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے کوئی ان پٹ نہیں اور اس میں حقیقی مصنوعات شامل نہیں کی گئیں تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔