مزید خبریں

Jamaat e islami

کنٹینرز لگنے کے باعث شہری 3دن کے لیے محصور

کراچی (اسٹاف رپورٹر)محرم الحرام کے دوران کنٹینرز لگنے کے باعث کراچی کے شہری تین دن کے لیے محصور ہوگئے، جلوسوں کی گزر گاہ ایم اے جناح روڈ، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک اور پریڈی اسٹریٹ سے لیکر کھارادر تک کا علاقہ مکمل طور پر سیل،3 دن کے لیے ڈبل سواری پر پابندی، موبائل سروس بند،گرین لائن بس سروس،پیپلز بس سروس(ریڈبسیں) کی سہولت سے بھی 3دن کے لیے کراچی کے شہریوں کو محروم کر دیا گیا ہے۔ایم اے جناح روڈ سے متصل علاقوں میں کرفیو کا سماں، وہاں کے مکینوں تک کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے، تمام گلیوں کو کنٹینرز کی مدد سے بند کردیا گیا ہے جبکہ گزر گاہ پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں جس کے باعث شہر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔پولیس اہلکاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ سیل کیے گئے راستوں سے نہ تو کوئی جلوس میں شامل ہو سکے گا اور نہ ہی ان راستوں سے کسی کو باہر جانے کی اجازت دی جائیگی۔ جلوس کی گزر گاہ پر موجود عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے نشانے باز متعین کردیے گئے ہیں، عمارتوں کے مکینوں کو بالکونیوں اور کھڑکیوں سے جھانکنے سے بھی منع کیا گیاہے جبکہ شہر کی فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔محرم الحرام کے دوران راستے بند ہونے پر شہریوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی مین شاہراہ جہاں بوہری جماعت خانہ ہے، وہ پہلی محرم سے عام لوگوں کے پیدل چلنے کے لیے بھی بند کردیا گیا ہے، پورا صدر بری طرح ٹریفک جام میں پھنسا رہتا ہے اور چند لوگ آرام سے روڈ کو بند کر کے محوگفتگو رہتے ہیں اور حفاظت پر مامور پولیس اہلکار پہرہ دے رہے ہوتے ہیں۔سیکورٹی کے نام پر ان علاقوں کومکمل طور پر سیل کردیا جاتاہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس مرتبہ بھی ہم شہریوں کو نو محرم کے بجائے آٹھ محرم سے محصور کردیا گیا ہے۔سیکورٹی کے نام پر تین دن تک محصور کرکے عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ کم از کم مریض اور خواتین و بچوں کو آمد و رفت کی اجازت ہونی چاہیے۔ دوسری طرف جلوس کے راستوں پر قائم گھروں میں مہمانوں کی آمد بند اور دکانیں سات محرم الحرام سے ہی بند کرا دی جاتی ہیں اور رات میں لوگ تالے توڑ کر ان کی دکانوں کا صفایا کر رہے ہوتے ہیں اور ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے۔