مزید خبریں

Jamaat e islami

شہادت حسینؓ حق و باطل میں فرق کو نمایاں کرتی ہے

کراچی (رپورٹ: سید وزیر علی قادری) شہادت حسینؓ حق و باطل میں فرق کو نمایاں کرتی ہے‘ یزید کو مشاورت کے بجائے خاندانی نامزدگی کی بنیاد پر حکمران بنایاگیا‘خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کرکے مملکت اور بیت المال کو جاگیر بنا لیاگیا ‘ عوام پر مظالم کیے گئے ‘ بنو امیہ کو قانون سے بالاتر قرار دیا گیا‘ نواسہ رسولؐ اور مقدس اصحاب نے ان خرابیوں کے سدباب کے لیے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے‘ ظالم و جابر حکمران کی اطاعت نہ کرنا ہی امام حسینؓ کی شہادت کا پیغام ہے‘ ہر سال مسلمان واقعہ کربلا کو یاد کرنے کے لیے محافل، مجالس اور جلوسوںکا اہتمام کرتے ہیں جس میں امام عالی مقامؓ کی شان میں قصیدے بھی پڑھے جاتے ہیں اور نوحہ بھی کرتے ہیں‘ ان تمام اعمال کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کہ وہ نواسہ رسولؐ کی تعلیمات پر ازخود عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں اور معتقدین کو باعمل بنائیں تاکہ دھرتی پر صرف اور صرف رب العالمین کا پسندیدہ نظام یعنی شریعت نافذ ہو‘ اسی طرح یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دین اسلام اور حق کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے‘ چاہیے مال ہو، اولاد ہو یا ان سب سے بڑھ کر خود اپنی جان۔ یہ سب امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے کرکے دکھایا جس کا مقصد دنیاوی مال و متاع یا شہرت کا حصول نہیں تھا بلکہ جو وقت کے خودساختہ بادشاہ بن بیٹھے تھے اور من مانی کرکے اترا بھی رہے تھے‘ ان کے خلاف امام عالی مقامؓ محض اس لیے صف آرا ہوئے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے تھے‘ رب العزت کی منشا کے خلاف تھا اور نواسہ رسولؓ جو جنت کے سردار بھی ہیں‘ ان کو ایسا کوئی عمل برداشت نہیں تھا اور یہ ہی ایمان کا بھی تقاضا ہے۔ان تمام پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے جسارت نے آج یوم عاشورہ اور یوم شہادت امام حسین کے موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری سابق صدر شعبہ عربی زبان و ادب جامعہ کراچی، ڈاکٹر شہزاد چنا، سید اکبر علی شاہ ، ممتاز عالمی باکسر اور سماجی بزرگ رہنما، اقراء ایجوکیشنل کے استاد، عالم دین سید احمد عمر قادری سے سوال کیا کہ ’’شہادت امام حسین ؓکا کیا پیغام ہے؟‘‘ اسحاق منصوری کا کہنا تھا کہ امام حسین ؓ اور ان کے پیاروں کی جانب سے اپنی جانوں کے نذرانے دینے کا مقصد ’’نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی تھی‘‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ یعنی چاروں خلفائے راشدین اسلام کے تقویٰ کے اصول پر منصب خلافت پر فائز ہوئے تھے‘ ان میں سے کسی کی بھی خاندانی یا نسلی بنیاد پر نامزدگی نہیں ہوئی تھی‘ یہ چاروں خلفا جید اصحاب کی رضا مندی، مشاورت اور ووٹ سے امت مسلمہ کے خلیفہ منتخب ہوئے تھے‘ جب حضرت امام حسین ؓ نے دیکھا کہ حکومت خلافت کے بجائے بادشاہت اور ملوکیت کے طریقے پر خاندانی نامزدگی کے ذریعے چلائی جا رہی ہے اور آہستہ آہستہ وہ سب خرابیاں امت مسلمہ میں بھی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں جو کہ بادشاہت میں عام طور پائی جاتی ہیں‘ ان بیت المال اور پوری مملکت کو اپنی جاگیر سمجھنا اور شاہی خاندان کو قانون سے بالاتر سمجھنا شامل ہے‘ اس کے نتیجے میں عوام میں2 طبقات وجود میں آئے‘ ایک طبقہ عوام پر ظلم کرنے والے اور دوسرا ظلم سہنے والا تھا‘ یہی وہ بنیادی خرابیاں تھیں جن کو آغوش رسولؐ، دامن فاطمہ الزہراءؓ ، علیؓ اور صحابہ کرامؓ کے سائے میں پروان چڑھنے والی شخصیتؓ نے دیکھ لیا تھا اور اس خرابی کے سدباب کی ہر ممکن کوشش کی اور با لآخر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قیامت تک امت مسلمہ کو ایک اہم اور ضروری پیغام دے گئے کہ ہم ظالم اور جابر حکمران کی اطاعت نہ کریں۔ ڈاکٹر شہزاد چنا نے کہا کہ دنیائے اسلام میں امام حسین ؓ کی شہادت ایک عظیم قربانی کا درجہ رکھتی ہے‘ حقیقت میں یہ شہادت حق و باطل میں فرق کو نمایاں کرتی ہے‘ جب تک ہم فلسفہ شہادت کو نہیں سمجھیں گے تب تک امام حسین کی قربانی کو بھی نہیں سمجھ پائیں‘ امام حسین رضی اللہ عنہ نے جو قربانی دی وہ ایک بہت بڑے مقصد کے لیے تھی‘ آپ نے اپنی شہادت سے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہم ظالم اور جابر حکمران کی اطاعت نہ کریں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کی قربانی اس وقت کے فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف تھی مگر افسوس ہوتا ہے جب ہم امام حسینؓ سے تو حد سے زیادہ محبت کرتے ہیں مگر امام کے دیے گئے فلسفے اور عظیم مقصد کے لیے جدوجہد نہیں کرتے اور اگر کوئی اس راہ کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو ہم اس کی حمایت نہیں کرتے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امام عالی مقامؓ کے فلسفہ شہادت کو سمجھیں اور ظالم، جابر اور فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں‘ ملک اور قوم کی بھلائی کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ کی دی گئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں‘ یہی امام حسینؓ کی شہادت کا اصلی پیغام ہے‘ وقت کے طاغوت کے بجائے اللہ اور رسول ؓکی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں‘ اسی میں ہماری کامیابی ہے۔سید اکبر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دراصل مسلمان امام حسین کی قربانی کو سمجھ ہی نہ پائے ورنہ آج اتنے رسوا نہیں ہوتے‘ سب سے زیادہ یزیدیت دیگر مسلم ممالک کے مقابلے میں پاکستان پائی جاتی ہے‘ خاص طور پر سندھ پر قبضہ کیے ہوئے راجا داہر کی اولادیں تو یزید کے نقش قدم پر ہی چل رہی ہیں‘ دیکھنا یہ ہے کہ حسینیت کے علمبردار، ان کا دم بھرنے والے اور حضرت امام حسین کے چاہنے والے سندھ کی اہم وزارتوں پر فائز ایسے حکمرانوں کو کب پار لگاتے ہیں ‘ یہ ایسے یزیدیت کے پیروکار ہیں کہ 10سال سے ساحلی علاقوں میں رہنے والے پانی کو ترس رہے ہیں اور یہ یزید کی یاد تازہ کیے ہوئے ہیں۔