مزید خبریں

Jamaat e islami

یزیدیت اور حسینیت باطل اور حق کے نظام کا فلسفہ ہے،لیاقت بلوچ

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے درگاہ حضرت میاں میرے سجادہ نشین پیر سید ہارون گیلانی کی دعوت پر 7ویں محرم کی مجلس شہادت حسینؓ میں شیعہ سنی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہادت حسینؓاور کربلا کا المناک سانحہ تمام اہل ایمان پور ی امت کا مشترکہ اثاثہ اور باطل کے مقابلہ میں حق کے علم کے ساتھ کھڑے ہونے کا سبق ہے اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ حق کی راہ میں جانیں لٹانے والے اور پاکیزہ خون دینے والے تاریخ بدلتے ہیں اور باطل قوتوں کے عزائم کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یزید کے ناجائز اقتدار اوراسلام اسلامی اصلاحات کی پامالی اور ریاست وقیادت کے معیار خلافت کو جب رونداجا رہا تھا تو خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی امام حسینؓکی قیادت میں حق کا علم بلند کرنے کے لیے آگے آنا تھا۔ باطل نظام کی طاقتور حکومت کے مقابلے میں اُٹھنا اور ہر طرح کے مصائب اور قربانیاں دے کر اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کے لیے خاندانِ خاتم الانبیا نے قیامت تک کے لیے مثال قائم کر دی ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ یزیدیت اور حسینیت باطل اور حق کے نظام کا فلسفہ ہے، یزید کی قیادت میں اسلام کی بنیادی سمت تبدیل کی گئی ، امانت اور خلافت کے اسلامی اصول تبدیل ہوئے، تکبر غرور نااہلوں کا تسلط ، ناانصافی بداخلاقی عام ہوئی،احتساب ، اظہارِ رائے اور آزادانہ حق انتخاب کا خاتمہ کیا گیا، قانون کی حکمرانی کے بجائے شخصی آمریت قائم ہوگئی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ملت اسلامیہ کو اصول دیا کہ حالات کیسے بھی ہوں حق اور سچ کا ساتھ دیا جائے۔ آج بھی یزیدی نظام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، آئین ، قانون ، نظام عدل پامال ہے۔ عوام کا آزادانہ شفاف حق انتخاب چھین لیا گیا ہے۔ رشوت ، کرپشن ،بدعنوانی اورجوئے وشراب کی لعنت عام ہے۔ مسلم حکمرانوں کی نااہلی کردار کی کمزوریوں کی وجہ عالمی استعماری ، اشکباری اور کفر کی قوتیں بالا دست ہیں۔ امت کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، کشمیر ،فلسطین ، شام ، یمن ، برما کے مسلمان حق آزادی سے محروم ہیں۔ دور حاضر پھر حسینی قیادت کی تلاش میں ہے۔ غلبہ دین ، اتحاد امت اور اقتصادی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی بحرانوں کا حل ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ گلگت میں ماہ محرم میں پیدا کی گئی شرانگیزی کو شعیہ سنی علما نے ناکام بنا دیا ہے، یوم عاشورہ تک کے ایام میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام مسالک کی دینی جماعتیں دینی مشترکات اور مقدسات کی حفاظت کے لیے فعال نسبت اور اتحاد ایمانی جذبہ سے کام کریں گے۔