مزید خبریں

Jamaat e islami

نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کی مجلس عاملہ کا حیدر آبادمیں اجلاس

نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی صدر شکیل احمد شیخ کی زیر صدارت فیڈریشن کے صوبائی دفتر حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خصوصی طور نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے سینئر نائب صدر ظفر خان نے شرکت کی۔ کراچی زون کے صدر خالد خان، محمد سلیم ، سید اقبال آفریدی،قاسم جمال، خصوصی شرکت امان بادشاہ، ڈھرکی زون سے شہزادو پنہیار ، صوبائی جنرل سیکریٹری عمر شر ، النور ایم ڈی ایف شاہ پور جہانیاں سے یاسین ملاح، عزیز ڈاہری، النور شوگر ملز ورکرز یونین CBAکے صدر تاج محمد ڈاہری، جنرل سیکریٹری طاہر محمود بھٹی،ٹنڈو محمد خان شوگر ملز ورکرز یونین کے صدر ریاض آرائیں جنرل سیکرٹری عبد الحکیم جلا لانی ، آرکرومہ ایمپلائز یونین کے صدر محمد ندیم ، جنرل سیکرٹری ناظم سولنگی ، سیسی فائونڈیشن کے چیئرمین عابد بخاری ،ایری گیشن فیڈر ڈویژن کے صدر رحمت شاہ، HDA ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری عبد القیوم بھٹی،ریلوے پریم یونین کے مبین راجپوت، اور صفحہ محنت کش روزنامہ جسارت کے انچارج قاضی سراج خصوصی دعوت پر عاملہ کے اجلاس میں شریک ہوئے ۔
سندھ کی عاملہ کے اجلاس میں نو منتخب جنرل سیکرٹری، سینئر نائب صدر، آفس سیکرٹری بل ترتیب محمد عمر شر ، قاسم جمال، مبین راجپوت نے صوبائی ذمہ داران کا حلف اٹھایا مرکزی سینئر نائب صدر ظفر خان نے عہدیداران سے حلف لیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر شکیل احمد شیخ نے نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کی کارکردگی کا جائزہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے شرکاء کو بتایا کہ سندھ کا محکمہ محنت سمیت ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن، EOBI اور دیگر ادارو ں کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں ان اداروں کی کارکردگی کو مایوس کن محنت کش دشمن اور سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کا عکاس قرار دیا گیا۔ یوں تو کسی بھی ادارے کی کارکردگی اچھی نہیں ہے لیکن محکمہ محنت کی کارکردگی انتہائی افسوسناک حد تک خراب اور مایوس کن ہے محنت کش اپنے مسائل کے حل کے لیے اس محکمہ سے رجوع کرتے ہیں لیکن یہاں محنت کشوں کو بروقت انصاف نہیں ملتا اس محکمہ کے اعلی افسران اپنے اختیارات استعمال کرنے اور سرمایہ داروں کو قانون پر عمل پر مجبور کرنے کے بجائے سرمایہ داروں کا تحفظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
محنت کشوں کے معاملات کو طول دے کر عملاً سرمایہ داروں کے آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں دوسری جانب حکومت سندھ کا رویہ بھی مایوس کن ہے اور حکومت بھی اپنے بنائے ہوئے لیبر قوانین پر عملدرآماد میں ناکام ہے قانون کے مطابق پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی ضلعی سطح پر ہونا ضروری ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا جبکہ سکھر ریجن میں کراچی سے تبادلہ کر کے جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر کو سکھر ریجن کا چارج دیا ہے اور اتھارٹی انڈ ر پیمنٹ آف ویجیز کے اختیارات تاحال نہیں دئیے گئے ہیں اس کے نتیجہ میں محنت کشوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے جوائنٹ ڈائریکٹر سکھر کو اختیارات نا دے کر سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سکھر ریجن کے محنت کش اپنے معمولی مسائل کے حل کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرکے حیدراباد آنے پر مجبور ہیں اور میٹنگ میں فریق ثانی کی غیر موجودگی معاملہ کو التواء میں ڈال دیتی ہے۔اجلاس میں EOBI دیگر اداروں سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ، سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں گورننگ باڈی میں غیر متعلقہ افراد کو نمائندگی دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ محنت کشوں کے حقیقی نمائندوں کو گورننگ باڈی میں منتخب کیا جائے اور ILO سے منظور شدہ ملک گیر فیڈریشن کی مشاورت سے گورننگ باڈیز کے ممبران کا تقرر کیا جائے۔
اجلاس میں EOBIاور سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں محنت کشوں کی انتہائی قلیل تعداد میں رجسٹریشن کو محنت کشوں کے حق پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ سو فیصد محنت کشوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان اداروں کا تھرڈ پارٹی فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور محنت کشوں کی رجسٹریشن نا کرنے کے ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ اجلاس میں نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں نو منتخب عہدیداران کو شرکاء کی جانب سے مبارکباد پیش کی گئی اور ان کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا گیا۔آخر میں اجلاس میں اختتام پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے مطابق سندھ کے کنٹریکٹ و ڈیلی ویجیز ملازمین کو ریگولر کرنے کے لئے فوری احکامات صادر کرے۔ سندھ کے سرکاری ، نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں کام کرنے والے نچلے درجے کے ملازمین کی کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے پر عمل درآمد کروایا جائے۔