مزید خبریں

Jamaat e islami

بنگلادیش: پیٹرولیم مصنوعات میں 52 فیصد اضافے پر ہنگامے پھوٹ پڑے

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤکرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 51.7 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 42.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرول 89 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا ہوگیا جب کہ ڈیزل کی قیمت 114 ٹکا ہوگئی۔ وزارت پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ریٹیل سطح پر قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ تیل کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں پر سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ہے۔ ملک زیادہ سبسڈی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ بنگلادیش کی تاریخ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤ کرلیا۔ مظاہرین نے اس اضافے کو بدترین مہنگائی لانے والی سونامی قرار دیتے ہوئے حکومت سے قیمتیں فی الفور کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ بنگلادیش نے حال ہی میں 4 ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف میں درخواست جمع کرائی ہے۔بنگلادیش کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہے تاہم یوکرین روس جنگ کے بعد سے پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں تیزی سے اضافے اور ڈالر کی اونچی پرواز سے ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کا سامنا ہے۔