مزید خبریں

Jamaat e islami

حیدرآباد:پولیس نے محر م سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی

حیدرآباد(سٹاف رپورٹر) ایس ایس پی حیدرآباد امجد احمد شیخ کی قیادت میں پولیس نے محرم الحرام 1444 ہجری (2022) کے حوالے سے سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی، ضلع بھر کی تمام امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں کی سخت سیکورٹی کے لیے متعلقہ SDPOs/SHOs کو فول پروف سیکورٹی کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ تمام امام بارگاہوں پر مجالس عزاء کے شروع ہونے سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ سے چیکنگ کراکر کلیئرنس سرٹیفکیٹ لیں گے تمام ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقے کی امام بارگاہوں میں مجالس کی ڈپلائمنٹ سے پہلے پولیس اہلکاروں کو بریفنگ دیں گے اور وقفہ وقفہ سے انہیں چیک کرتے رہیں گے اور تمام امام بارگاہوں اور مجالس عزاء و ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے مناسب تعداد میں کیمرے نصب کیے گئے ہیں،ضلع حیدرآباد میں کل 123 امام بارگاہیں ہیں جن میں 17 بڑی اور 106 چھوٹی امام بارگاہ ہیں،محرم الحرام کے دوران 936 مجالس منعقد کی جائیں گی جن میں 90 انتہائی حساس، 45 حساس جبکہ 801 نارمل قرار دی گئی ہیں اسی طرح حیدرآباد میں 340 چھوٹے بڑے جلوس نکالے جائیں گے جن میں 31 انتہائی حساس 50، حساس اور 259 نارمل قرار دیے گئے ہیں۔ پولیس کی 4 ہزار سے زائد نفری امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کی نگرانی کے لیے تعینات کی جائے گی،قدم گاہ سمیت اہم امام بارگاہوں پر چیکنگ کے لیے واک تھروگیٹ بھی نصب کردیے گئے ہیں جبکہ SDPO سٹی آفس میں محرم الحرام کی تمام تقریبات کی مانیٹرنگ کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے محرم الحرام کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اور عوام میں احساس تحافظ پیدا کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔اس کے علاوہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں میں نفری میں اضافہ کرکے آنے جانے والوں کی سختی سے چیکنگ شروع کردی گئی ہے،شہر کے تمام رہائشی ہوٹلوں،مسافر خانوں، گیسٹ ہاؤسز اور حساس مقامات پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے،تمام SDPOs/SHOs کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے اپنے علاقے کی امام بارگاہوں اور عزادار تنظیموں کے عہدیداروں،تاجر انجمنوں اور علاقے کے معززین سے قریبی رابطے میں رہیں اور فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی تجاویز اور آراء کو خصوصی اہمیت دیں۔