مزید خبریں

Jamaat e islami

کراچی میں بجلی بحران بد ترین شکل اختیار کرگیا۔رات کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے،کے الیکٹرک

کراچی(نمائندہ جسارت)شہر قائد میں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو اوسان خطا کردیے، بھاری بھر کم بجلی کے بل دیکھ کر شہری بلبلا اُٹھے جبکہ کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ شارٹ فال 24 گھنٹے برقرار رہنے کے باعث رات کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بجلی بحران بدترین شکل اختیار کرگیا ہے‘ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کے بعد رات میں بھی شہری علاقوں میں بجلی کے غیر اعلانیہتعطل کے باعث شہری شدید عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث تمام امور ٹھپ ہوچکے ہیں‘ جیسے تیسے میں گزارا کرلیا جاتا ہے مگر رات میں اپنے بچوں کو لیکر کہاں جائیں؟ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث رات کا سکون چھن چکا ہے‘ بچوں کی پڑھائی بھی سخت متاثر ہونے لگی ہے‘ بجلی کی ہوشربا لوڈشیڈنگ کے باوجود بھاری بھر کم بلز نے اوسان خطا کردیے ہیں‘ مہنگائی اپنے عروج پر ہے، ایسی صورت حال میں10، 12 ہزار روپے کا بجلی بل بھریں یا اپنے بچوں کا پیٹ پالے۔ واضح رہے کہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے مارکیٹوں کو رات9 بجے بند کردیا جاتا ہے لیکن اس کے کچھ فائدہ نہیں ہو رہا۔ شہر کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ4 سے14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ کھارادر، لیاری، نیا آباد، کورنگی، اورنگی، ملیر، لانڈھی، سرجانی ٹائون، قائدآباد، قیوم آباد، کیماڑی، نیوکراچی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، بہادر آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور اسکیم 33 و دیگر علاقیطویل لوڈشیڈنگ سے شدید متاثر ہیں۔ شہریوں نے کہا کہ ہر2 سے3 گھنٹے بعد3 سے ساڑھے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ دوسری جانب کے الیکٹرک نے شہر قائد میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے امکان کو مسترد کردیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہر میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے‘ کراچی میں بجلی کی سپلائی ویب سائٹ پر موجود 30 جون کو جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہے۔ لوڈشیڈ نگ کے اس شیڈول میں کوئی اضافہ یا تبدیلی نہیں کی گئی‘ شارٹ فال 24 گھنٹے برقرار رہنے کے باعث رات کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کے دوران کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کا سوال ہی غلط ہے۔