مزید خبریں

Jamaat e islami

کراچی !بھاری ٹیکس کی ادائیگی مسائل کے انبار ؟

یف پی سی سی آئی کے صدرعرفان اقبال شیخ نے 14جولائی کو کہا تھا کہ کراچی کے تمام کاروباری، تجارتی اور کمرشل مراکز بارش کے پانی میں ڈوب گئے ہیں، حکومت سندھ اور کراچی کی شہری ایڈمنسٹریشن کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے فل الفور حرکت میں آنا چاہیے، کاروباری برادری کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا، لیکن حکومت اور ایڈمنسٹریشن بے بس نظر آرہی لیکن سوال یہ ہے کیا ان کی اس بات پر کسی نے توجہ دیا ہے ۔اگر عوام بازاروں میں نکل جائیں تو ان معلوم ہو جائے گا کہ آج بھی صورتحال ویسی ہی ہے
اب چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ شہر کراچی میں جو بنیادی سہولتیں ہونی چاہئیں وہ نہیں ہیں، سندھ کابینہ نے کراچی اور اندرون سندھ میں بارشوں سے تباہ حال سڑکوں اور سیوریج سسٹم کو بہتر بنانے کی منظوری دیدی ہے، کراچی کی بزنس کیمونٹی کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے کئے جائیں گے،بارش سے متاثرہ روڈز کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ 5 ارب روپے کی لاگت سے کورنگی کاز وے پراجیکٹ جون 2024 تک مکمل کیا جائے گا ۔چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ایک کمیٹی قائم کرکے انہیں کراچی اور اندرون سندھ بھیجا ہے تاکہ وہ بارشوں سے ہونے والی تباہی کی رپورٹ انہیں دے سکے لیکن اس بات کا کس کوعلم نہیں ہے اس سے قبل کی کمیٹیوں نے کیا کما ل کر دکھایا کہ اب کراچی میں دودھ کی نہریں نکل آئیں گئیں بس شہباز شریف بھی چلے جائیں ۔بزنس لیڈرایس ایم منیر نے کہا کہ بارشوں نے شہر قائد کی سڑکوں کو تباہ کردیاہے، ایسے لوگوں کو ٹھیکہ دیا جائے جو ایک ہی بارش سے برباد سڑکیں نہ بناسکیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہم سے فوری ملاقات کریں تاکہ ہم ان کے ساتھ تعاون کرسکیں۔ایس ایم منیر نے کہا کہ بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر ہرآنکھ اشکبار ہے جبکہ وہاں کے عوام کی مدد کے لیے جانے والے پاک افواج کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ ہوا جس میں ہمارے فوجی افسران اور جوان شہید ہوئے،آرمی ہمارا ستون ہے اور جولوگ آرمی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں وہ لوگ افواج کی خدمات کو سامنے رکھیں تاکہ انہیں شرمندگی ہوسکے اس موقع پر عارف حبیب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کے معاشی حالات بہت خراب ہیں اور اس کے ذمہ دارسیاستدان ہیں، ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جس سے ملک کمزور ہو، موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے اور سبسڈیز ختم کیں مگرایگری کلچر میں ٹیکس نیٹ نہیں بڑھایا گیا، غلط فیصلوں پر تنقید کی جائے کیونکہ اس کا خمیازہ ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑتا ہے۔معروف صنعتکاراور سماجی خدمتگاربشیرجان محمدنے کہا کہ ملک کے جوحالات ہیں اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں،ہم سب کو مشترکہ طور پرسوشل میڈیا، اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعہ انہیں شرم دلانی چاہیئے،معیشت کی مسلسل خرابی کی وجہ سے ہماے پیسے آدھے ہوگئے ہیں لیکن حالات بہتر کرنے کے بجائے سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔شیخ خالدتواب نے کہا کہ عبدالحسیب خان نے اپنی کتاب میں اخلاقیات اورحقوق العباد کی بات کی ہے جو معاشرے میں انتہائی ضروری ہے،1947میں جو اخلاق اورمحبت تھی وہ آج نہیں ہے،نوجوانوں کو مساجد میں حقوق العباد کے بارے میں درس ضرور دیا جائے۔ زبیرموتی والا نے کہا کہ ایک خوف ہے کہ ملک کے جوحالات ہیں کیا ہم اس سے باہر نکل سکیں گے، اگر حکمران اور سیاستدان ہمای مشکلات کو نہ سمجھ سکیں تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، حکومت فنانشل ایمرجنسی لگائے۔
ایک وقت یہ تھا کہ کہ جارہا تھا کہ کراچی میں پارکنگ کے مسئلہ کا واحد حل پارکنگ پلازوں کی تعمیر لیکن برسوں کراچی کا پارکنگ پلازوں بھوتوں کا گھر بنا ہو ا ہے کرچی کے بازاروں میں ایک عرصہ سے پارکنگ کا مسئلہ آج کل پارکنگ کمپنی کے نام پر شہریوں پر ایک نیا عذاب مسلط ہے۔شہر پاکنگ میں گاڑی کھڑی کریں یا الگ پولس ان کو اُٹھالیتی ہے اور اس بعد بدمعاشی شروع ہوجاتی ہے اور عوام کو پارکنگ کے نام پر خوب لوٹا جاتا ہے۔اس میں پولیس کے ساتھ پارکنگ مافیا بھی شریک ہو تی اور حکومت حصہ دار کی وجہ سے خامش رہنے پر مجبور نظر آتی ہے
این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے شعبہ پلاننگ اینڈآرکیٹکچر کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نعمان احمدکا کہنا ہے کہ کراچی میں ضلعی سطح پر انسانی زندگی کے لیے خطرناک سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوں گی۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں بغیر بلا روک ٹوک شہری علاقوں میں پھیل چکی ہیں۔ گیس سلنڈروں، کیمیائی مادوں، آتش گیر مواد و دیگر ایسی چیزوں کے ذخیرہ خانوں کو حفاظتی ضابطوں کے مطابق دستاویز کیا اور نمٹا جائے۔دیگر کئی ایسے بڑے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں جو براہِ راست تعمیراتی سرگرمیوں اور خلاف ورزیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اداروں کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر کینٹونمنٹ ترقیاتی کاموں سے جڑے مسائل پر صوبائی یا مقامی حکومتوں کی رٹ کی پرواہ ہی نہیں کرتے جس کے باعث معیارات میں تفریق پیدا ہوجاتی ہے۔ہمارے ہاں زمین کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں جو کسی بھی ضابطے کے نفاذ کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔ شہری ترقیاتی کاموں کے لیے اداروں کی مطلوبہ پلاننگ اور ضابطہ بندی و نگرانی کے میکینزم کے بغیر مزید حادثات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔حالیہ مہینوں میں شہر کی عمارتیں متعدد ہولناک واقعات کا شکار ہوئی ہیں۔ پی آ ئی بی رنچھوڑ لائن اور گل بہار کے علاقوں میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات کا پیش آنا معمول بن چکا ہے عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے واقعات، بے ضابطہ آبادیوں اور صنعتی سرگرمیوں کے مقامات یا گوداموں میں آتشزدگی کے حادثات، آبی گزرگاہوں میں طغیانی اور دیگر کئی اقسام کے سانحات شہرِ کراچی میں معمول کی بات بن چکے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کسی مناسب شہری منصوبہ بندی، زوننگ ضابطوں کے بغیر اور ترقی و انتظامی وسائل کی مختص کردہ معمولی رقم کے ساتھ ادارہ جاتی عدم دلچسپی کا عذاب بھگت رہا ہے۔
کراچی میں عالمی بینک کے ترقیاتی کام بھی تاخیر کا شکار ہیں اور شاہراہِ کمال اتاترک پر ‘کراچی نیبر ہْڈ امپرومنٹ پروجیکٹ’ کے نام سے شروع کیا گیا منصوبہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود تکمیل سے کوسوں دْور ہے۔دوسرے مرحلے میں انتظامی امور کی بہتری پر کام ہوگا جبکہ تیسرا مرحلہ عملدرآمد اور تکنیکی مدد سے متعلق ہے، لیکن تاحال ان میں سے ایک مقصد بھی پورا نہیں ہوا۔اس منصوبے کے تحت صدر، ایمپریس مارکیٹ، برنس روڈ، دین محمد وفائی روڈ، پاکستان چوک، ڈی جے کالج اور ملحقہ علاقوں میں عمارتوں کی تاریخی حیثیت کو بحال کیا جائے گا۔
کراچی میں بارش کے بعد پہلے سے تباہ حال سڑکوں شاہراہوں کی حالت مزید خراب ہوگئی۔ ایم اے جناح روڈ، یونیورسٹی روڈ پر سفاری پارک کے قریب سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ جہانگیر روڈ پر گڑھے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ہیں، نالے پر بھی حفاظتی دیوار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ موبائل مارکیٹ کے قریب، کیپری سنیما کے قریب سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکا ہے، اردو بازار کی سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہیں جبکہ بارش کے بعد کیچڑ کے باعث گاڑیوں اور پیدل افراد کا چلنا مشکل ہے۔تین ہٹی سے گرومندر جانیوالے ٹریک پر سڑک کی خراب صورتحال کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی ہے شہری اپنے طور پر متبادل راستہ اختیار کر رہے ہیں۔جہانگیر روڈ پر سڑک کنارے نالے پر کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے جسکے باعث شادمان نالے جیسا واقعہ ہونے کا خدشہ ہے لیکن انتظامیہ کے سر پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ عیدالاضحیٰ جاری رہا ہے جس کے سبب شہر کی صورتحال تباہ کن ہوگئی جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے اور کئی علاقے ڈوب گئے جبکہ شہری کئی گھنٹوں سے بجلی سے بھی محروم رہے۔کراچی پولیس کے مطابق مختلف واقعات میں 5 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے اور ایک آدمی کی موت دیوار گرنے کے سبب ہوئی۔حکومتِ سندھ کی جانب سے شہر کے نالوں کی صفائی کے دعووں کے باوجو بارش کا پانی تیزی سے سڑکوں اور محلوں میں جمع ہوگیا جس نے اگست 2020 میں ہونے والی تباہ کن موسلادھار بارش کی یاد تازہ کردی۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں سیورج کا نظام بھی جواب دے گیا، ڈیفنس سمیت کئی نشیبی علاقوں میں گھروں کے اندر پانی داخل ہوگیا۔
وزیراعظم کا کراچی میں موسلا دھار بارشوں کا نوٹس وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے شہری انتظامیہ کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔وزیراعظم نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘ابھی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بات ہوئی اور کراچی میں موسلادھار بارشوں سے ہونے والے افسوسناک نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ حکومتِ سندھ اس موقع پر فوری حرکت میں آئے گی اور وزیراعلیٰ سندھ کی باصلاحیت قیادت میں زندگی کو معمول پر لے آئے گی، میں نے انہیں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔یہ سب کچھ ایک کھیل سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔