مزید خبریں

Jamaat e islami

اسلامی جہاد تحریک نے اسرائیل سے جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا، پاکستان کی غزہ پر حملوں کی شدید مذمت

غزہ‘اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک +آن لائن ) غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد اسلامی جہاد تحریک نے اسرائیل کے ساتھ فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔اسلامی جہاد ذرائع نے اسرائیل کے خلاف فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کردیا ہے، گزشتہ روز غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے 15 فلسطینی شہید اور 110 زخمی ہوئے تھے۔اسرائیلی حملے کو اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے اسلامی جہاد تحریک کی جوابی کارروائی میں اسرائیل پر 160 راکٹ فائر کیے گئے۔غزہ میں اسلامی جہاد تحریک کے خلاف اسرائیلی ا?پریشن کے حوالے سے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسلامی جہاد کے خلاف آپریشن ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے، جنگ بندی کے لیے فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔غزہ میں کشیدگی بڑھنے پر اقوام متحدہ، مصر اور قطر نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، روس نے بھی غزہ میں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں اس واقعے کو اسرائیل کی دہشت گردی کی تازہ ترین کارروائی قرار دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر سزا کے خوف سے بالاتر ہو کر ظلم کرنے والے کا کوئی وجود ہے تو وہ اسرائیل ہے جو نتائج کی پروا کیے بغیر فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ادھر ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، عاصم افتخار احمد اسرائلی جارحیت کے نتیجے میں ایک 5 سالہ بچی سمیت متعدد بے گناہ فلسطینیوں کی شہید اور زخمی ہوئے، جاری بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا جارحیت کی تازہ ترین لہر بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے، ترجمان دفترخارجہ جارحیت کی تازہ ترین لہر دہائیوں سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم، غیر قانونی اقدامات اور طاقت کا اندھا دھند استعمال ہے۔پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل پر زور دے کہ وہ طاقت کے بے دریغ استعمال کو روکے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھا پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرے۔ جارحیت کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے۔ہم اقوام۔متحدہ اور او آئی سی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک قابل عمل، خودمختار، فلسطینی ریاست کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کرتے ہیں، عاصم افتخار احمد نے کہا ایسی فلسطینی ریاست کہ جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو ہی مسئلہ فلسطین کا واحد، جامع اور دیرپا حل ہے۔