مزید خبریں

Jamaat e islami

الیکشن کمیشن کا ممنوعہ فنڈ ضبط کرنیکا با ضابطہ نوٹس، عمران خان طلب، ایف آئی نے بھی کارروائی شروع کردی

اسلام آباد (اے پی پی)الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلہ کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اگست کو کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی کاز لسٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین کو پولیٹیکل پارٹیز رول 2002ء کے رولز6 کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے 2 اگست2022 کو8 سال بعد ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا یہ کیس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا ۔فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے 2008 سے2013ء تک پانچ سال کے دوران جمع کرایا گیا فارم ون اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اسٹیٹمنٹ سے مطابقت نہیں رکھتا اوراس کی نسبت غیر مستند ہے،34 غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ لی‘13 نامعلوم اکائونٹس سامنے آئے جس کا پی ٹی آئی ریکارڈ نہ دے سکی۔چیئرمین تحریک انصاف نے اکاؤنٹس چھپائے،جوآئین کی خلاف ورزی ہے۔پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ ‘ متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ ‘سوئٹزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی ‘پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے غیر قانونی فنڈنگ لی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق رومیتا سیٹھی سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار پائی۔جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے،کمیشن نے351 غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قراردے دی۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے اب تحریک انصاف کو باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 اگست دن 10 بجے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب ممنوعہ غیرملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد الیکشن کمیشن مزید متحرک ہو گیا،ممنوعہ غیرملکی فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو نوٹس جاری کر تے ہوئے پی ڈی ایم کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر نا اہلی ریفرنس پر انہیں18 اگست کو طلب کرلیا ہے ،گزشتہ روز یہ ریفرنس رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا نے الیکشن کمیشن میں جمع کرایا تھا، ریفرنس پر دیگر ارکان قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ، آغا حسن بلوچ ،صلاح الدین ایوبی، علی گوہر اور سعد وسیم شیخ کے دستخط ہیں۔ علاوہ ازیں ممنوعہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایف آئی اے نے تحقیقات کیلئے گریڈ 20 کے افسر ڈاکٹر اطہر وحید کی سربراہی میں5 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی بھی قائم کردی‘ حکام نے فنڈنگ کے ذرائع یعنی کمپنیوں اور افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالی معاملات کی تفصیلات حاصل کرنا شروع کردی ہیں اس سلسلے میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے کمپنیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔حکام نے بتایا کہ کسٹمز اور اِنکم ٹیکس حکام کے تعاون سے مالی گوشواروں اور امپورٹ ایکسپورٹ کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا ہے، تمام زونز اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیوں اور افراد کی تحقیقات کریں گے۔