مزید خبریں

Jamaat e islami

لسبیلہ، سیلابی ریلے سے کئی گھر مسمار، مکین سرکاری امداد کے منتظر

لسبیلہ( نمائندہ جسارت)لسبیلہ و گردونواح میں حالیہ ہونے والی موسلادھار طوفانی بارشوں نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کو بری طرح متاثر کیا جس کی وجہ سے کافی لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے، سیلابی ریلوں کی وجہ سے کافی لوگوں کے نقصانات ہوئے وہاں کے لوگ ابھی تک حکومتی امداد کے منتظر ہیں،متاثرین نے اب بھی حکومت سے فوری مدد اور سڑک اور اپنے گھروں کی بحالی کی اپیل کی۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں اور گردونواح میں ہونے والی طوفانی اور موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے کافی تباہی مچا دی ہے سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں اس مرتبہ 100 گنا زیادہ لسبیلہ میں بارشیں ہوئیں ہیں جس کی وجہ سے لسبیلہ کے مختلف علاقوں اور گردونواح میں موسلادھار بارشوں کے سیلابی ریلوں کی وجہ سے کافی لوگوں کے مکانات کو تنکوں کی طرح بہا کر لے گیا۔ذرائع کے مطابق لوگوں کے کاشتکاروں کی کھڑی فصیلیں بارش سیلابی ریلوں کے نظر ہو گئیں کاشتکار حضرات تباہ اور برباد ہو گئے سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے مکانات اور مال مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے جبکہ کاشتکاروں عمر بھر کی جمع پونچی سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔دوسری جانب ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں اور گردونواح میں سیلاب متاثرین کافی روز گزر جانے کے بعد بھی صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔لسبیلہ بھر میں موسلادھار بارشوں کی سیلابی ریلوں کی وجہ سے قومی شاہراہ کوئٹہ ٹو کراچی روڈ اور پل اور مختلف سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد ان کی بحالی پر بھی کام جاری ہے جبکہ کوئٹہ ٹو کراچی قومی شاہراہ کو ضلعی انتظامیہ کے جانب سے بحال کر دیا ہے مزید بحالی پر کام جاری ہے۔بارش کی سیلابی ریلوں کی وجہ سے سیکڑوں لوگوں کے مکانات کی دیواریں اور چھتیں گرگئیں اور مال مویشی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے ہیں جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ تباہ و برباد ہو گئے لوگ اپنے بچوں سمیت کھلے آسمان تلے آ گئے، سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ زرعی اراضی بھی کافی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے اب بھی لسبیلہ کے مختلف علاقوں اور گردونواح کے سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اب بھی حکومتی اور ضلعی انتظامیہ کی مدد اور امداد کے فوری منتظر ہیں لسبیلہ کے سیلاب متاثرین لوگوں کا اور سیاسی و سماجی شخصیات کا حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کی اپیل کی ہے۔جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ،لسبیلہ اسکاؤٹ ایف سی، پاک آرمی، پاک نیوی،پاکستان کوسٹ گارڈز،لیویز فورس، ایدھی،1122 ریسکیو،لسبیلہ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے لسبیلہ بھر کے مختلف علاقوں اور گردونواح کے کافی تعداد میں ان تمام لوگوں کو کھانے پینے اور راشن ٹینٹ ادویات وغیرہ ہیلی کاپٹر اور زمینی راستے کے ذریعے تمام اشیا کھانے پینے،ادویات اور ٹینٹ وغیرہ حکومت کی جانب سے سیکڑوں لوگوں کو مہیا کر دیا گیا ہے مگر اب لسبیلہ کے گردونواح میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔جبکہ پاک آرمی اور صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان، وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی، کمشنر قلات ڈویژن داؤد خان خلجی اور ضلعی انتظامیہ و مختلف اداروں کی جانب سے جنگی بنیادوں پر تمام راستوں کی بحالی اور امدادی سامان،کھانے پینے اور راشن ٹینٹ وغیرہ پہنچانے پر صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کام جاری ہے۔