مزید خبریں

Jamaat e islami

کیا عمران خان کے بیانات سے عدلیہ کمزور ہو گئی ہے؟سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے عمران خان کی اداروں کیخلاف اشتعال انگیز تقاریر کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کرلیے۔کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار وکیل قوسین فیصل نے دلائل دیے کہ بطور شہری اداروں کیخلاف بیانات پر تکلیف پہنچی ہے،حکومت جاتے ہی عمران خان اور ساتھیوں نے اشتعال انگیزی شروع کر دی،تقاریر اور بیانات سے عدلیہ، فوج اور الیکشن کمیشن کو کمزور کیا جا رہا ہے،آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر وار کیا جا رہا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک نے دوسرے کو کیا کہا، کیا اب سپریم کورٹ اس پر بھی ایکشن لے گی؟درخواست کیساتھ کسی تقریر کے ٹرانسکرپٹ ہیں نہ ہی شواہد،درخواست گزار بتائے تکلیف پہنچنے پر 184/3 کا کیس کیسے بنتا ہے؟ریاست اگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے تو 184/3 کا کیس بنتا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار موجود ہے،عدالت کو جب مناسب لگا تو خود نوٹس لیکر کارروائی کر لے گی،درخواست گزارکا کام عدالت کو آگاہ کرنا تھا آپ نے کر دیا بات ختم ،مناسب ہوتا درخواست گزار کسی اور فورم پر دادرسی کیلیے جاتے،درخواست میں نہیں بتایا گیا کہ کن بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے،جن قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے ان سے متعلقہ فورم سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟کیا عمران خان کے بیانات سے عدلیہ کمزور ہوگئی ہے؟ جسٹس اعجاز الحسن نے درخواست قابل سماعت بارے مزید دلائل طلب کرلیے اوراٹھائے گئے سوالات پر تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت ستمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی ۔