مزید خبریں

ظلم کی رات

سیدنا امام حسینؓ کی زندگی میں مسلمان ریاست کی وسعتوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا تھا، جنگی فتوحات نے مسلمانوں کے دن پھیر دیے تھے، ہر جگہ دولت کی بہتات کھلی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیدناحسینؓ اس صورتِ حال پر فخر کرتے اور اللہ کا شکر بجا لاتے لیکن انھوں نے جیسے ہی محسوس کیا کہ خلافت کے ادارے میں ملوکیت کی پیوندکاری ہونے لگی اور اسلامی ریاست کا مزاج تبدیل ہونے لگا ہے اور اسلامی مملکت کی بنیادی اقدار خطرے میں ہیں تو انھوں نے وہی کچھ کیا جو اسلامی تعلیم کا عین تقاضا ہے اور اپنی قربانی سے اس کو اتنا نمایاں کردیا کہ اب ہزار تاویلوں سے بھی اس کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
دْنیا میں کسی شخص سے بھی چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ، شہری ہو یا دیہاتی، اگر یہ پوچھا جائے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت کون سی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے اور اگر جان نہیں تو جہان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ جہان یعنی دنیا میں بے شمار نعمتیں ہیں۔ مطعومات کی کمی ہے نہ مشروبات کی، ملبوسات کا شمار ممکن ہے نہ باقی اسباب زندگی کا اور اس کے علاوہ موسموں کی نیرنگی، پھولوں کی خوشبو، دریائوں کا زیروبم، آبشاروں کا گرنا، چشموں کا ابلنا، تودوں کا پگھلنا، گھنگھور گھٹائوں کا جھوم کر اْٹھنا، پربت پر چھائی ہوئی بادلوں کی چھائونی، چیڑوں کے گڑے ہوئے جھنڈے، سرسوں کے پھولے ہوئے کھیت، مسکراتی ہوئی کشت زعفران، گندم کی روپہلی فصل۔ ایسی بے شمار نعمتیں اللہ نے انسان کے لیے پیدا کر رکھی ہیں لیکن ان سب کا تعلق حیاتِ انسانی سے ہے۔
جب تک زندگی ہے تو ایک نعمت سے فائدہ اٹھانے کا امکان باقی ہے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ہر نعمت بیش بہا ہے لیکن زندگی ان سب سے بڑھ کر انمول ہے۔ اس لیے کوئی شخص بھی بقائمی ہوش و حواس اپنا سر کٹوانا پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس عقدے کا آخر کیا حل ہے کہ جتنے پاکیزہ ترین لوگ اس دنیا میں آئے ہیں اور جن کی عظمتوں سے انسانیت کا نام روشن ہے۔ ان میں سے کوئی شخصیت گزری کہ جس نے کبھی زندگی سے پیار کیا ہو اور جس نے اپنا مقصدِ حیات محض زندہ رہنا قرار دیا ہو۔
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
حالات جدھر آدمی کو کھینچے پھرتے ہیں آدمی اْدھر کو چلتا ہے۔ یہ وہ حیوانی زندگی ہے کہ جو اللہ کی پسندیدہ شخصیتوں کی زندگی سے مختلف ہے۔ وہ زندگی کو اللہ کی نعمت سمجھ کر شکر ادا کرتے ہیں۔ وہ زندگی کو مقصد نہیں بلکہ مقصد حیات کی ادائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جب کہیں مقصد حیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو مقصد حیات کو بچانے کے لیے زندگی کو قربان کرنا پڑے تو ایک لمحے کے لیے تامل نہیں کرتے۔
سیدنا علیؓ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا اور تلوار نیچے تک اْتر گئی اور آپ نے محسوس کیا کہ اب بچنا مشکل ہے تو بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلا ’’فُزتُ برب الکعبۃ‘‘ ربّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ جنگ موتہ میں یکے بعد دیگرے سیدنا زیدبن حارثہؓ، سیدنا جعفر طیارؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ زخموں سے گھائل ہو کر گرے تو ہر ایک کی زبان سے یہی جملہ لوگوں نے سْنا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مقصد حیات کے مسافر اپنے سفر کو اس قدر دراز سمجھتے ہیں کہ جس کا ایک سرا دْنیا کے ساتھ وابستہ ہے تو دوسرا آخرت سے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ زندگی کا سفر راستے میں ختم ہوجاتا ہے اور یہ مسافر اپنے سفر پر آگے نکل جاتے ہیں۔
ان کے پیشِ نظر بجز اس کے اور کوئی ارمان نہیں ہوتا کہ یہ زندگی جو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس دین کی سربلندی کے کام آجائے جو اس سے بھی بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ جب اس کا موقع پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اعلیٰ اقدار اور انسانیت کی بقا کے لیے مقصد حیات جسے دوسرے لفظوں میں دین کہا جاتا ہے (اور دین درحقیقت تمام اچھائیوں، تمام حقائق اور تمام صداقتوں کا مجموعہ ہے) سب سے قیمتی چیز ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے جتنے عظیم بندے دنیا میں آئے ہیں۔ چاہے وہ اللہ کے نبی و رسول ہوں یا چاہے اس کے راستے پر چلنے والے لوگ وہ ہمیشہ انسانیت کے سرمائے کی حفاظت اور انسانیت کی بقا کے لیے ہمیشہ اس راز کو اپنی قربانیوں کے ذریعے منکشف کرتے آئے ہیں۔ سیدنا حسینؓ نے بھی یہی احسان امت مسلمہ پر کیا اور مسلمانوں پر اس حقیقت کو واضح کیا کہ تمھارا اصل سرمایہ وہ ہے جو اس وقت خطرے میں ہے۔