مزید خبریں

حیدر آباد دکن ، شر پسند ہندوئوں نے مسجد شہید کردی

حیدرآباد (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر حیدرآباد میں رات کی تاریکی کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے سرکاری غنڈوں نے مسجد کو شہید کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کے علاقے شمشاد آباد میں مسجد کی مسماری پر احتجاج کرنے والے مقامی رہنما سمیت درجنوں مسلمان مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔مظاہرین نے بتایا کہ میونسپل ادارے کے اہل کاروں نے مسجد کو رات 3 بجے کے قریب خاموشی سے مسمار کیا۔ فجر کے وقت نمازی جمع ہوئے تھے تو مسجد منہدم تھی۔واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مقامی رہنما کی قیادت میں صبح 10بجے تک سیکڑوں مظاہرین جمع ہوگئے اور سرکاری دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس نے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مظاہرین کو ہی حراست میں لے لیا اور علاقے میں جگہ جگہ بھاری نفری تعینات کردی گئی۔علاقہ مکینوں نے مسجد کی دوبارہ تعمیر اور زیر حراست افراد کی گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں پہلے مرحلے میں ریاست اور پھر ملک بھر میں احتجاج بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ بلدیہ نے یہ کارروائی ایک شہری کی درخواست میں کی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مسجد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسلمانوں مظاہرین نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے سوال اْٹھایا کہ اگر ایسا تھا تو متعلقہ ادارے کو پہلے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ اور پھر کارروائی منہ اندھیرے چھپ کر کیوں گئی؟