مزید خبریں

Jamaat e islami

گندگی کے سرکاری نرخ 10 ہزار کیے جائیں،آباد گار

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)آباد گاروں کی جانب سے فی بوری گندم کے سرکاری نرخ10 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ سندھ کی عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے کپڑا اور مکان کے بعد اب عوام سے روٹی بھی چھنی جا رہی ہے سندھ حکومت آباد گاروں کو کھاد اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی کو یقینی بنائے۔ آٹا چکی اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد میمن، نائب صدر فاروق راٹھور، جنرل سیکرٹری حاجی نجم الدین چوہان، جوائنٹ سیکرٹری فاروق قمر، خازن محمد شفیق قریشی اور اطلاعات سیکرٹری ملک محمد ہارون نے بیان میں آبادگاروں کی جانب سے 40 کلو گندم کی سرکاری قیمت 4000 ہزار روپے اور 100 کلو بوری کی قیمت 10 ہزار روپے مقرر کرنے کے مطالبے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقی اور انسانیت دشمن قرار دیا جو سندھ کے عوام کے ساتھ ظلم اور سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سندھ بھر کے آبادگار یک زبان ہوکر حکومت سے کھاد اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا مطالبہ کریں تاکہ سندھ کا ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی تو عزت کے ساتھ کھا سکے۔ سرکاری گندم کی خریداری کے نرخ بڑھانے سے اوپن مارکیٹ میں گندم مزید مہنگی اور آٹا بھی مہنگا ہو جائے گا جبکہ عوام پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہیں ہوشرباء مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ان حالات میں آباد گاروں کی جانب سرکاری سطح پر گندم کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ انتہائی حیران کن اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حکمران طبقہ پہلے ہی عوام سے کپڑا اور مکان چھین چکا ہے اب روٹی کا آخری نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند سالوں سے محکمہ خوراک سندھ کی ناقص پالیسی کی وجہ سے سندھ کے عوام بدترین صورتحال سے دوچار ہیں، ذخیرہ اندوزوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ایک طرف محکمہ خوراک سندھ کے افسران گندم خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں تو دوسری جانب افسران گندم کی مبینہ میگا کرپشن میں ملوث ہیں۔ اربوں روپے کی گندم چوری کے اسکینڈلز سامنے ہیں،سرکاری گندم کے گوداموں میں ملاوٹ شدہ گندم اسٹاک کی جارہی ہے کارروائی کے باوجود بہتری دکھائی نہیں دے رہی بلکہ کرپٹ،راشی افسران سرکاری گندم گوداموں میں انسان کے کھانے کی گندم میں ملاوٹ کے مرتکب انسانیت دشمن افسران و عملے کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے عوام میں معیاری اور غذائیت سے بھرپور آٹا فراہم کرنے والی آٹا چکیوں کو فوری سرکاری گندم فراہم کی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر چھپائی گئی گندم بازیاب کراکر فروخت کے لیے اوپن مارکیٹ میں لائی جائے تاکہ تیزی سے بڑھتے ہوئے نرخوں پر کنٹرول اور عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔