مزید خبریں

Jamaat e islami

” گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے “

سچ تو یہ ہے دنیا کا مقبول ترین کھیل فٹبال پاکستان میں دوسرے کمیونٹی کے لوگوں کے لیے ایک کھیل اور تفریح کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمارے بچوں کیلیے کھیل کے ساتھ ان کی معاشی ضرورت بھی ہے عباس بلوچ اور علی نواز بلوچ پاکستان فٹبال فیڈریشن میں جنرل سیکریٹری اور نائب صدر تک کے عہدوں پر فائز رہے ہیں لیکن وہ اپنے ذاتی مفادات کے ہی تابع رہے ہیں پورے پاکستان میں 70-75 فیصد سے زیادہ فٹبال سندھ اور خاص کر کراچی میں ہی کھیلا جاتا ہے جو یہاں کے ڈسٹرکٹس کلبس کے عہدیداران اور کھلاڑیوں کے ہی مرہون منت ہے، جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فٹبال کو زندہ کیے رکھا ہے ‘ پاکستان فٹبال فیڈریشن پر قابض ٹولے نے ہمیشہ ہماری نااتفاقی اور کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنائے رکھا ہے۔ گو کہ مرحوم عباس بلوچ پاک انہیں غریق رحمت کرے ایک تعلیم یافتہ اور شاطر شخصیت کے مالک تھے لیکن وہ اپنے ذات میں بند اپنے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے تھے جاتے جاتے آخر تک وہ اپنے ساتھ چلنے والے ساتھیوں میں سے کسی ایک کو اپنا نعم البدل جانشین پیداکیے بغیر اس دار فانی سے کوچ کر گئے حالانکہ ان کے ساتھیوں میں امام بخش انجینئر حسین بخش بلوچ , حاجی عبدالواحد بلوچ سمیت اعلی تعلیم یافتہ اشخاص کی ایک بہترین ٹیم ان کے ساتھ تھی جو بددل ہوکر فٹبال کی گندی سیاست سے دور ہوتے چلے گئے ۔ اب بھی وقت ہے ہمارے کراچی کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذاتی پسند ناپسند اناء کو بالائے طاق رکھ کر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک ہونا پڑے گا ورنہ ہمارے فٹبال فیڈریشن کا بر سر اقتدار مفاد پرست ٹولہ ان کو آپس میں اسی طرح دست بہ گریبان کر کے کراچی کے فٹبال گراؤنڈز میں ٹونامنٹ آرگنائزر کے نام پر چوکیداری تک ہی محدود رکھے گا –