مزید خبریں

نصرتِ دین اور خواتین

…رحمت

…حلال کھاؤ

بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کیخلاف اندرون سندھ بھی احتجاج

کراچی (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سندھ کے امیر سابق ایم این اے محمد حسین محنتی کی اپیل پر بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کو ملتوی کرنے کے خلاف کراچی، بدین، دادو، حیدرآباد اور ٹھٹھہ سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں الیکشن کمیشن دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے ،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور الیکشن کمیشن کے خلاف ف نعرے بھی لگاتے رہے۔اس موقع پر صوبائی،ضلعی اور مقامی قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر عوام کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم اور جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔الیکشن کمیشن پیپلزپارٹی کی بی ٹیم بن چکی ہے، پہلے مرحلے میں حکمران جماعت کی جانب سے بدترین دھاندلی کی پردہ پوشی کے بعد دوسرے مرحلے میں حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کو ریلیف دینے کے لیے بارش کا بہانہ کرکے الیکشن ملتوی کرنا سراسر مذاق ہے، جماعت اسلامی عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا زنی کے خلاف ہر فورم پر بھرپور احتجاج کرے گی۔بدین میں ضلعی امیر سید علی مردان شاہ،اللہ بچایو ہالیپوتہ کی قیادت میں الیکشن کمیشن بدین کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی ، اس موقع پر رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست سے خوفزدہ ہے اور انہوں الیکشن دھاندلی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ،بدین کے حالات کو خراب کرنے کے لیے قاضی احمد نوابشاہ سے ڈاکوئوں اور دہشت گردوں کا ٹولہ بدین کی جانب رخ کررہا ہے اگر شہر کے حالات خراب ہوئے تو الیکشن کمیشن پر ذمے داری عاید ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین پیپلزپارٹی کے امیدواروں کا ورک کررہے ہیں فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس موقع پر عظیم احمد،فتح خان کھوسہ ودیگر بھی موجود تھے۔ دریں اثنا جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی مقبولیت سے پیپلزپارٹی اور متحدہ خوفزدہ ہیں، اسی لیے دونوں نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر راہ فرار اختیار کیا، یہ سب بے نقاب ہورہے ہیں، یہ سارے مل کر کراچی کو میئر اور سندھ کے عوام کو اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرنے سے محروم کررہے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران سندھ حکومت ترقیاتی کام کررہی ہے، الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا، صوبائی الیکشن کمیشن پیپلزپارٹی کی ایکسٹینشن ہے، جو مؤقف ہائیکورٹ مسترد کرچکی ہے اسے الیکشن کمیشن نے منظور کرلیا، بلدیاتی انتخابات اپنے وقت پر ہونا لازمی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرو اور الیکشن کمیشن کو پہلے مرحلے میں حکمران جماعت کی دھونس دھاندلی کی شکایات کے باوجود اس پر کوئی نوٹس تک نہیں لیا گیا ،بارشوں کی پیشگوئی کو جواز بناکر الیکشن ملتوی کرادیے، اس سے قبل بارش کی اتنی پیشگوئیاں ہوئی اس وقت کچھ نہیں ہوا سخت گرمی میں اپر سندھ میں پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا لیکن اب اپنی شکست کو ٹالنے کے لیے الیکشن کمیشن کی آڑ میں دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا گیا،سندھ کا الیکشن کمیشن مکمل طور پر پیپلزپارٹی کا سہولت کار بن چکا ہے لیکن جماعت اسلامی سندھ کے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کو فرار نہیں ہونے دے گی۔جماعت اسلامی ٹھٹھہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن آفس ٹھٹھہ کے سامنے مظاہرے سے جماعت اسلامی ٹھٹھہ کے ضلعی رہنماؤں ، ایڈووکیٹ عبدالمجید سموں جنرل سیکرٹری ، غلام شفیع سموں ، نائب صدر ، عبداللہ آدم گندرو، امیر ٹھٹھہ سٹی ،محمد علی خٹک و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کرائی ہے جس کی اہم وجہ کراچی میں جماعت اسلامی کی مقبولیت اور ممکنہ جیت ہے۔ ٹنڈو الہ یار میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے راؤ جاوید علی صدر پبلک ایڈ کمیٹی نے خطاب کیا۔