مزید خبریں

پشاور ہائیکورٹ: مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی کیسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ معطل

پشاور (اے پی پی) پشاور ہائیکورٹ نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے مالم جبہ، بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی اور بینک آف خیبر انکوائری کی دوبارہ تحقیقات کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات روک دیں۔ کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس شاہد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار اسداللہ وغیر کی جانب سے کیس کی پیروی قاضی جواد احسان اللہ قریشی ایڈووکیٹ نے کی، رٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 7جولائی 2022 کو قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے بلین ٹری سونامی ، ما لم جبہ، بی آر ٹی اور بینک آف خیبر میں بے قاعدگیوں سے متعلق دوبارہ انکوائری کا حکم جاری کیا تھا جو غیرقانونی ہے ،رٹ کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی کے 7 جولائی 2022 کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی محکمے کو دبارہ تحقیقات کی ہدایت دے پہلے ہی اس حوالے سے کیسز عدالت میں زیرسماعت رہ چکے ہیں اور تحقیقات بھی مکمل ہو چکی ہے۔ قاضی جواد ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے مالم جبہ کیس پشاور ہائیکورٹ نے نیب کے آرڈیننس کے سیکشن سی کے تحت بند کیا ہے جبکہ بینک آف خیبر سے متعلق کیس کی تحقیقات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو لکھا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ بی آر ٹی کا کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اختیارات صرف ان کیسوں میں ہے جو اسمبلی کے دوران ہو اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کا کام صرف اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت کارروائی کرنا ہے نہ کہ کسی ادارے کو یہ کہنا کہ وہ دوبارہ کسی محکمے میں تحقیقات کرے کیونکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے صرف آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر بات کرنی ہوتی ہے، چونکہ یہ تمام کیسز عدالتوں میں ہیں اس لیے اس میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کسی قسم کا حکم جاری کرتی ہے تو وہ ماورائے آئین اور اسمبلی بزنس کے خلاف ہے ۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کسی صورت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی جس کا تعلق سول یا کریمنل پروسیجر سے ہو چونکہ یہ کیسز عدالت میں زیر سماعت رہ چکے ہیں اس لیے اس میں انکا اختیار نہیں بنتا ۔ عدالت نے 4 اگست تک حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات روک دیںاور فریقین سے جواب طلب کرلیا۔