مزید خبریں

قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوا تو کریں گے ، وزیر خزانہ

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا کر معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کردیا ہے، پی ٹی آئی کی سابق حکومت کی پونے چار سالہ ناقص کارکردگی کے باعث ملک کو مسائل کا سامنا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے اس کو توڑا، ہماری حکومت خسارہ کم کر کے دکھائے گی، پنجاب حکومت نے 100 یونٹ تک بجلی مفت کردی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی پونے چار سالہ ناقص کارکردگی کے باعث ملک عدم استحکام کا شکار ہو گیا، جب پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کی کوششوں کے باعث ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران حکومت نے پونے چار سال میں 20 ہزار ارب روپے سے زائد کا قرض لیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس محصولات کم ہونے کے باعث بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت جاتے دیکھ کر پیٹرول پر سبسڈی دی جس سے ملک کو ماہانہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے قوم کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی تھی، 2018 میں لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی تھی۔ سابق حکومت نے بجلی کا ایک میگاواٹ کا پلانٹ تک نہیں لگایا، شمسی توانائی کے حصول کے لیے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پیٹرول اور ایل این جی خریدنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا حالانکہ پوری دنیا میں طویل المدتی معاہدے کیے جاتے ہیں، پونے چار سال عمران خان غریب عوام کی فلاح وبہبود کا رونا روتے رہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ موجودہ حکومت نے عوام کو سستا گھی، آٹا اور چینی کی فراہمی یقینی بنائی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے آخری سال بجٹ خسارہ 550 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ بیرونی ذرائع سے قرض لیا جائے گا تو کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 4 ہزار ارب روپے سود اور قرض کے لیے ادا کرنے ہیں۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے اسے توڑا، ہم نے کٹھن حالات میں نہ چاہتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، ہم نے ڈیزل کی قیمت 120 روپے بڑھائی ہے تو 40 روپے فی لیٹر کمی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا ہے، پنجاب حکومت نے بجٹ میں 100 یونٹ تک بجلی مفت کردی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم اس سال برآمدات 35 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، سبسڈی کم کریں گے، خسارہ کم کر کے دکھائیں گے