مزید خبریں

سول اسپتال میں ارجنٹ اسٹاف رکھیں جائیں گے،عبدالستار جتوئی

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد جامشورو کے بورڈ آف مینجمنٹ کا اجلاس وائس چانسلر لمس جامشورو پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اُجن کی زیر صدارت سول اسپتال حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد وجامشورو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبشر علی کولاچی ،ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی، رکن صوبائی اسمبلی سندھ عبدالجبار خان یوسف زئی، پروفیسر معین انصاری، پروفیسر اشوک نرسانی ،اے ایم ایس جنرل ڈاکٹر شاہد اسلام جونیجو اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کی سول اسپتال حیدرآباد جامشورو پر خصوصی توجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال نے گزشتہ 3 سے 4 سال کے درمیان ترقی کی ہے اور اب یہ اسپتال بہترین سے بہترین اسپتال بن گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس اسپتال میں حیدرآباد ہی نہیں بلکہ پورے سندھ سے مریض اپنے علاج معالجہ کے لیے آتے ہیں اور اسپتال کے تمام شعبہ جات میں علاج معالجہ کی تمام سہولت میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال مینجمنٹ بورڈجو میٹنگ کرتا ہے اس میٹنگ میں بڑے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں اور ان فیصلوں کی روشنی میں جو ترقیاتی کام کرائے جاتے ہیں اس سے ہسپتال کو فائدہ ہوتا ہے اور جو بھی فیصلے کیے جاتے ہیں یہ فیصلے گورنمنٹ آف سندھ کو بھیج دیے جاتے ہیں ہیں جنہیں گورنمنٹ آف سندھ منظور کرتا ہے اور آج کے اجلاس میں اسپتال میں ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس وقت اسپتال میں 350 ڈاکٹرز ، 450 نرسز اور1200 پیرامیڈیکل ملازمین کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے گورنمنٹ آف سندھ کو ارجنٹ بیس کی بنیاد پر ملازمین رکھنے کے لئے گزارش کی جائے گی کیونکہ آجکل نوکریوں پر پابندی عائد ہے اس لئے ہم گورنمنٹ آف سندھ سے گزارش کریں گے کہ وہ اسپتال میں ملازمین کی کمی کو پورا کرنے کے لئے فی الحال ہمیں کانٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمین رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ڈائریکٹر ایڈمن عبدالستار جتوئی نے کہا کہ اسپتال میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو کراچی کے نامور پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوتی ہے اور اجلاس میں ایم پی اے عبدالجبار خان نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ پرائیویٹ وار ڈاور پرائیویٹ روم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ایسی فیملی ہیں جو پرائیویسی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مریضوں کو کراچی منتقل کرتے ہیں ،لہذا اس توجہ کے بعد اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کہ 100 روم پر مشتمل پرائیویٹ وارڈ تعمیر کیا جائے گا تاہم حکومت سندھ کی منظوری کے بعد فوری طور پر 30 پرائیوٹ روم بنانے کے لئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہاؤس آفیسر اور پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹرز کی رہائش بہت بڑا مسئلہ تھا لیکن آج وائس چانسلر کی اجازت کے بعد فیصلہ ہوا ہے کہ اسپتال کے خالی نرسنگ ہاسٹل کی تزئین و آرائش کے بعد ہاؤس آفیسر اور پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹرزکے ہاسٹل کے لیے مختص کیا جائے گا ۔انہو ںنے بتا یاکہ ہسپتال میں کوئی فوتگی ہو تی تھی تو اکائونٹ فار نہیں ہو تی تھی جس کے لیے اب ایک کمیٹی بنائی گئی ہے کہ ہر فوتگی پر جہاں محسوس ہو گا کہ اس فوتگی میں کسی کی کوتاہی ہوئی ہے تو کمیٹی انکوائری کرکے اس کی رپورٹ مرتب کرے گی اور جو ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔