مزید خبریں

لیاقت بلوچ نے ملی یکجہتی کونسل کا مرکزی اجلاس آج طلب کرلیا

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے اعلان کیا ہے کہ حکومتی ایما پر اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کی طرف سے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کے خلاف اور سودی نظام کے تحفظ کے لیے پٹیشن کی صورتِ حال پر لائحہ عمل بنانے کے لیے آج اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کا مرکزی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ حکومت کی بدنیتی، اسلام بے زاری اور عالمی استعماری مالیاتی اداروں کی غلامی قوم پر مسلط کرنا قابل قبول نہیں۔ ناکام اور تباہ کن معاشی اقدامات سے عوام حکومت کے خلاف پہلے ہی بغاوت پر آمادہ ہیں۔ اللہ کے خلاف جنگ، سْودی نظام کو حکومتی تحفظ بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف دباؤ اور خوف سے باہر آئیں اور وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے پر لائحہ عمل کے لیے قومی ٹاسک فورس بنائیں، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کی اپیلیں واپس لینے کا حکم جاری کریں۔ لیاقت بلوچ نے کسان رہنماؤں چودھری شوکت چدھڑ، چودھری منظور گوجر اور میاں رشید احمد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم، چاول، کپاس، گنے اور خوردنی تیل کے بیجوں کی کاشت اور برداشت پر حکومتی انقلابی لائحہ عمل پاکستان کو خودکفیل بناسکتا ہے۔ زراعت، پانی اور معدنیات کی طاقت پاکستان کی تیل سے زیادہ طاقتور ہے۔ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، وڈیروں، خوانین، ثمن داروں ،سرداروں کے تسلط اور سول،ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی غلط حکمت عملی نے ملک و ملت کا ستیاناس کردیا ہے۔ یہ المیہ ہے کہ مقبول سیاسی قیادت اور پارٹیاں ناکام، نااہل ثابت ہوگئی ہیں۔ مقبولیت کی بنیاد پر پاپولر جماعتوں اور لیڈرشپ کے پاس ہوس، اقتدار کے علاوہ کوئی لائحہ عمل نہیں۔