مزید خبریں

سلامتی کونسل کشمیر جیسے تنازعات سے متعلق قرادادوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرے،پاکستان

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر جیسے طویل مدتی تنازعات سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدگی سے غور کرے اور بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 15رکنی سلامتی کونسل کو مزید شفاف، جوابدہ، جامع اور جمہوری بنایا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندہ عامر خان نے عالمی سلامتی کونسل کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بحث کے دوران کہا کہ عالمی سلامتی کونسل کی ساکھ کے لیے اس کی قراردادوں پر منتخب عمل درآمد اور عدم نفاذ سے زیادہ نقصان دہ کچھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور تنازعات کے خصوصی حل کے لیے ریاستوں اور عوام کے عزم کو ختم کردیتی ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات پر جنرل اسمبلی کے بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) کے عمل کے ذریعے جلد اتفاق رائے کی امید ظاہر کی اور اس دوران اس کے کام کرنے کے طریقہ کار میں بہتری لانے پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے ساتھ اس کی بڑھتی ہوئی مصروفیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بند دروازوں میں کم سے کم اجلاس ہونے چاہئیں کیونکہ ہم سب کا بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں برابر کا حصہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے کام کی اوپن نیچر خاص طور پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ پاکستانی سفیر عامر خان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے ساتھ تعلقات کو بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کے مطابق لایا جانا چاہیے۔