مزید خبریں

حکمرانوں نے اللہ و رسول سے اور ہم نے ان ظالموں کیخلاف جنگ کا فیصلہ کیا ہے،سراج الحق

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سودی معیشت اور سودخوروں کے ہوتے ہوئے ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔ حکمرانوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم بھی ظالموں سے جنگ کریں گے ۔ اسٹیٹ بینک اور دیگر 5 کمرشل بینکوں کا وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کرنا آئین پاکستان سے بغاوت ہے ، قوم ان بینکوں کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ حکمرانوں نے استعمار اور آئی ایم ایف کی وفاداری میں تمام حدیں عبور کردیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 50 روپے مرحلہ وار اضافے کے حکومتی فیصلے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس ظلم پر خاموش نہیں رہے گی۔ عوام کے حقوق کے لیے شدید گرمی میں رحیم یار خان سے راولپنڈی تک ٹرین مارچ کیا ،آنے والے دنوں میں احتجاج میں مزید تیزی لائیں گے۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں حکومت میں ، صرف جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے۔ حکمران اتنا ظلم کریں جتنا برداشت کرسکتے ہیں، قوم ان جاگیرداروں، وڈیروں، ظالم سرمایہ داروں اور سود خوروں سے حساب لے گی۔ علما ملک میں اسلامی انقلاب کے لیے کردار ادا کریں۔ جماعت اسلامی کرپشن فری اسلامی پاکستان کے لیے جدوجہد کررہی ہے، اللہ کے دین کو تخت پر لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں سودی معیشت کے خلاف علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں ملک بھر سے مشائخ ، گدی نشینوں اور علما کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دیگر مقررین میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ،شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک،چیئرمین علما مشائخ رابطہ کونسل خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، صدر علما مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد اور امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری شامل تھے۔سراج الحق نے کہا سودی مالیاتی نظام ملک کی تباہی کا اصل ذمے دار ہے۔ وفاقی شریعت عدالت کے تاریخی فیصلے پر قوم نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا اور ہمیں امید تھی کہ اب حکومت سود سے پاک معیشت متعارف کرا کر ملک میں ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھے گی اور آئی ایم ایف سے سابق معاہدے ختم کرکے ملکی قانون کی روشنی میں سود فری معاہدے کرے گی۔ لیکن حکمرانوں نے قوم کی امنگوں کے برعکس فیصلہ کیا ، نہ صرف آئی ایف ایم سے مزید سخت شرائط پر قرض لیا جارہا ہے بلکہ وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کو بھی بینکوں کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں، وڈیروں اور ظالم سرمایہ داروں نے وسائل سے مالامال ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ مہنگائی، کرپشن، سودی معیشت، بدامنی اور بے روزگاری کی وجہ سے پاکستان جل رہا ہے مگر تینوں بڑی جماعتیں مفادات کی جنگ میں الجھی ہوئی ہیں۔ ن لیگ ، پی پی اور پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے معیشت کا سقوط اور ادارے برباد ہوگئے ہیں۔ملک کے تمام بحرانوں کی ذمے دار مارشل لا ادوار کے ساتھ ساتھ ان تینوں کی حکومتیں ہیں۔ تباہی پھیلا کر بھی حکمران جماعتیں سنجیدگی کا راستہ نہیں اپنا رہیں۔ واضح ہوگیا ہے کہ خودمختاری کی منزل کا حصول، کرپشن سے نجات اور اسلامی پاکستان ان کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ بس اسٹیبلشمنٹ سے دودھ کا فیڈر لے کر اپنے اقتدار کو طول دینے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پی پی نے اپنے اپنے ادوار میں مافیاز کو نوازا اور غریبوں پر عرصہ حیات تنگ کیا۔ یہ لوگ ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دھکیلنے کے ذمے دار ہیں۔ملک ہمارا اور فیصلے واشنگٹن کے بند کمروں میں ہوتے ہیں۔ 75سال سے مختلف نعروں پر جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار قوم کو دھوکا دے رہے ہیں۔آج ملک میں قانون کی حکمرانی کا تصور تک نہیں، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون اور عدالتیں ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ ملک کو سود سے پاک اور تمام شعبوں میں قرآن وسنت کا نظام نافذ کرنا ہماری منزل ہے۔ قوم اس منزل کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ وقت آگیا ہے فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالوں سے چھٹکار حاصل کیا جائے۔