مزید خبریں

جماعت اسلامی سکھر،الیکشن و حلقہ بندیاں چیلنج کرنے کا اعلان

سکھر (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سکھر نے شہر میںہونیوالے بلدیاتی انتخابات کو جانبدارانہ غیر منصفانہ اور دھاندلی شدہ بوگس الیکشن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ، اور الیکشن و حلقہ بندیوںکو چیلنج کرنے اور اپنی جدو جہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، منگل کے رو ز سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سکھر شہر زبیر حفیظ شیخ نے کہا کہ سالہاسال سے اقتدار میں موجودہ حکمراں جماعت کو اگر اپنی کارکردگی کے بجائے دھاندلیوں ، خریدو فروخت کے ذریعے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا پڑے اور اسے برائے نام ووٹ ڈالے جائیں تو بہتر ہے کے اس کی قیادت استعفیٰ دے دے یا پھر سیاست کو چھوڑ دے۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ ، یو سی 2کے انتخابی مہم کے انچارج سجاد اللہ بھٹو ، یو سی 2مکی شاہ ٹاؤن میں امیدوار برائے چیئر مین عبدالباری انصاری،دیگر امیدار ان عزیر غازی، روشن تنیو، اسداللہ تنیو، معاون سوشل میڈیا سندھ عبدالمالک تنیو ، عبدالستار اخوان، واجد حسین بھٹو، آصف شیخ سمیت دیگر موجود تھے۔ زبیر حفیظ شیخ نے کہا کہ حکمراں پارٹی کا دوبارہ بلدیاتی اداروںمیں آنا شہر کی بربادی کا باعث بنے گا، جماعت اسلامی خریدو فروخت ، سرکاری اختیارات و سائل کے ذریعہ ، ترقیاتی کاموں کے لالچ کے ذریعے ، نوکریوںکی بندر بانٹ لالچ کے ذریعہ ہونے والے ایسے الیکشن کو بوگس الیکشن سمجھتی ہے ،الیکشن کمیشن صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد میںمکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، جماعت اسلامی جعلی بوگس الیکشن کے خلاف اپنی جدو جہد کو جاری رکھے گی اور شہرکی تمام ووٹرز جنہوں نے جماعت اسلامی سمیت دیگر پارٹیوںکو کارکردگی منشور کی بنیاد پر ووٹ دیا ہے اس سے اظہار تشکر کرتا ہوں وہ تمام لوگ جنہوں نے مفادات کا سودا کیا ، ضمیر فروشی کی، ووٹوں کی خریدو فروخت کی تمام کے تمام شہر اور قوم کے مجرم ہیں ، جماعت اسلامی شہر کے مسائل پر جدو جہد جاری رکھے گی، اور عوام کے لوٹے ہوئے پیسوںکا حساب لیں گے ، جوفنڈز شہر کی تعمیر و ترقی کیلیے خرچ ہونے تھے انہیں کہاں صرف کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک ہی عمارت میں بسنے والوں کو الگ الگ بلاکوں میںتقسیم کر دیا گیا مخالف جماعتوں کے امیدواروں اور ووٹرزکو حراساں کیا گیا حلقہ بندیوں کے اعتراضات کے بعد بھی کوئی عمل نہیںالیکشن سے قبل ہی شہر میں ناقص تعمیراتی کاموں کے ذریعے سیاسی رشوت کا بازار گرم کیا گیا ، مختلف نمائندہ و جماعتوں کی جانب سے توجہ دلانے کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں صرف اور صرف سلیکشن تھا جو الیکشن کمیشن کی نااہلی ہے جماعت اسلامی الیکشن کمیشن کے غیر جانبدارانہ ، شفاف ہونے والے الیکشن کو بوگس قرار دیتی ہے اور اسے مسترد کرتی ہے جماعت اسلام سکھر جعلی و بوگس الیکشن کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی اداروں کی ترقی جمہوری استحکام سے مشروط ہے، اسی کے نتیجے میں ملک خوشحالی ترقی کا سفر طے کرتا ہے،جمہوری اداروں اور جمہوری نظام کی کمزوری کے نتیجہ میں معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے،انارکی پیدا ہوتی اور تشدد پروان چڑھتا ہے، پاکستان میں جمہوری نظام کا پہلا بنیادی مرحلہ بلدیاتی انتخابات ہیں، سندھ میں بلدیاتی الیکشن تنازعات کی زد میں رہا ہے ، سکھر شہر کی میونسپل کارپوریشن کی حدود میں منظم طور پر طے شدہ منصوبے کے تحت دانستہ ایسی حلقہ بندیاں کی گئیں جس کے نتیجہ میںمخصوص جماعت کو فائدہ پہنچانا تھا، ایک سیٹ پر ایک گھر ایک عمارت ایک گلی میں رہنے والوں کو دو علیحدہ علیحدہ پولنگ اسٹیشنوں پر منتقل کر دیا گیا تھا، منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کے ووٹرز کو کنفیوز کر دیا گیا جسے آخری دن تک پتا نہیں تھا کہ اس کا ووٹ کہاںپر کاسٹ ہو گا، من مانی حلقہ بندیاں بلدیاتی الیکشن میں قبل از انتخاب دھاندلی کا پہلا قدم تھا، جماعت اسلامی کے سیل نے الیکشن کمیشن کو اپنے اعتراضات کوپیش کیا اور بتایا کہ حلقہ بندیاں غیر ذمے دارانہ اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی ہیں جس کا مقصد مخصوص جماعت اور شخصیات کو فائدہ پہنچانا تھا، سکھرکی یو سی 2 دھرم شالہ کے خواجہ محلہ کو اٹھا کر دور واقع جناح چوک سے ملا دیا جس میں ٹکر بھی شامل ہے جو عجیب و غریب حلقہ بندی ہوئی ہے، اس کو سمجھنے میں امیدواروں کو دشواری کا سامنا تھا تو ووٹرز تو بالکل لاعلم رہے، سکھر کو تقسیم کر کے ایک طرف سے یو سی 2 بنا دیا گیا اور دوسری جانب تقسیم 3 اور درمیان سے کاٹ کر یو سی 4 بنا دیا گیا، یہ مخالفین کے ووٹ بینک کو تقسیم کرنے الیکشن ہائی جیک کرنے کا منظم منصوبہ تھا، دوسرے مرحلہ میں مخالف امیدواروںکو دھمکایاگیا ، مخصوص یو سیز میں اپنے پسندیدہ امیدواروںکو بلا مقابلہ کامیاب کرانے کیلیے دھونس دھمکیوںمیںنہ آنے والوں کو آر او ز کی مدد لی گئی اور انتخابی مقابلہ سے باہر کر دیا گیا، یو سی 4 سے جاوید میمن کو فارم مسترد کرایاگیا، ہم نے اعتراضات جمع کرائے کہ آر او ز اور سرکای ملازمین سرکاری عملہ کم اور مخصوص پارٹی کے کمدار بنے نظر آئے، الیکشن کے آخری ایام میں انتخابی مہم کے عروج پر شہر میںترقیاتی کاموںکو شروع کر دیا گیا ، اور گلی محلوںمیں تعمیراتی میٹریل بکھرا ہو اہے، یہ سراسر دھاندلی اور الیکشن کو جانبدار انہ بنانے کا عمل تھا، اس پر کوئی توجہ نہیں دی، غیر معمولی انوکھے اقدام کے طور پردیکھا گیا کہ سکھر میں شدید بارش کے دوران سڑکوںکی پیوند و استر کاری کر کے دکھائی گئی،جیے شاہ ، گڈانی پھاٹک روڈ، قریشی روڈ ، پرانا سکھر کی گلیاں جہاں برسوں سے سڑکیں ٹوٹ پوٹھ کا شکار ہیں وہاں کے بجائے مخصوص بنی بنائی سڑکوں کو بلا وجہ دوبارہ بنانے کا کام کیا گیا، الیکشن انتظامیہ نے خاموشی اختیار رکھی، الیکشن سے دور روز قبل ووٹوں کی خریدو فروخت کا سلسلہ کیا، قابل مذمت ہیں جنہوں نے شہر کی مفاد کے برعکس ضمیر فروشی کی ، ضمیر کا سودا کرنے والے لعنت و ملامت کے مستحق ہیں جنہوں نے ضمیر کے بجائے لالچ میں شہر کو بیچ ڈالا، یہ شہر کے بدترین لوگ ہیں،انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا کام بلا کسی تفریق جاری رکھیں گے۔