مزید خبریں

۔90 کروڑ ڈالر کیلیے حکمرانوں نے معیشت کا جنازہ نکال دیا،خالد ملک

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین خالد ملک نے حکومت کی طرف سے متعدد صنعتوں پر لگائے گئے 10 فیصد سپر ٹیکس کو غریب عوام کے ساتھ دھوکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نفاذ سے پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام شدید متاثر ہوں گے کیونکہ انڈسٹری مالکان بھی اپنی مصنوعات کی لاگت آگے عوام پر منتقل کر دیں گے اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ ہے تو صنعتوں کو فروغ دے اس سے ہماری برآمدات بڑھے گی ، بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا، برآمدات کی صورت میں ملک میں زرمبادلہ آئے گا اور جلد آئی ایم ایف سے چھٹکارا مل جائے گا، وزیراعظم پاکستان سے اپیل ہے کہ کسی معاشی ماہرین سے بجٹ بنوائیں اور اس میں صنعتکار اور آئی ایم ایف کے نمائندے کو بھی شامل کریں۔حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین خالد ملک نے ایک بیان میں حکومت کی طرف سے 10 فیصد سپر ٹیکس کے نام پر عائدہ کردہ ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں مہنگائی و بیروزگار ی مزید بڑھے گی کیونکہ مصنوعات کی لاگت بڑھنے پر انڈسٹری مالکان اس کا تمام بوجھ آگے عوام پر منتقل کر دیںگے، اس صورتحال میں ہماری انڈسٹری اپنی مصنوعات جو برآمدکرتی ہے اس کی لاگت بڑھ جائے گی۔ خالد ملک نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف سے صرف 90 کروڑ ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے ملکی معیشت کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں، فیکٹریاں اور صنعتی زون پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتی قیمتوںسے مشکلات کا شکا رہیں اس لیے ہم ایک سوئی تک برآمد کرنے کے قابل نہیں رہیں گے جس کے نتیجے میں ملک میں زرمبادلہ نہیں آئے گا، 90 کروڑ ڈالر جو آئی ایم ایف سے آنے ہیں جسے بنیاد بنا کر یہ ٹیکس لگایا گیا ہے یہ ڈالر شیڈول سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے، وقت سے پہلے ملک بھی دیوالیہ ہو جائے گا اور عوام بھی دیوالیہ ہو جائیں گے، اب حکومت کی طرف سے سپر ٹیکس لگانے سے سیمنٹ، کھاد، ایل این جی، آٹو موبائل، گیس، اسٹیل، کیمیکل، بیوریجز سمیت دیگر صنعتوں کی لاگت مزید بڑھ جائے گی جس کا اثر براہ راست عوام پر ہو گا۔