مزید خبریں

رئیل اسٹیٹ شعبے پر ٹیکسوں میں اضافہ واپس لیا جائے

اسلام آباد (اے پی پی)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی رئیل اسٹیٹ کمیٹی کا ایک اجلاس کنونیر چودھری مسعود کی قیادت میں چیمبر میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیمبر کے صدر محمد شکیل نے کی۔اجلاس میں نئے بجٹ کے تحت رئیل اسٹیٹ پر عائد کیے گئے نئے ٹیکسوں پر اس شعبے کی تاجر برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس شعبے کو تباہی سے بچانے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیمبر کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ تعمیراتی صنعت معیشت کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے تاہم حکومت نے نئے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے اس شعبے کی کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی اور معیشت مزید مشکلا ت کا شکار ہو گی۔ لہذا انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت رئیل اسٹیٹ شعبے کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں کو فوری واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 74 کے قریب صنعتیں بالواسطہ اور بلاواسطہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہیں اور ٹیکسوں میں اضافے سے ان تمام صنعتوں کا کاروبار متاثر ہو گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرے اور ٹیکسوں میں اضافے پر ان کے تحفظات دور کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عید کی آمد کی وجہ سے اسلام آباد میں کاروبار رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے جیسا کہ کراچی میں کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاروبار جلد بند کرنے کے بجائے بجلی کی بچت کے لیے رات کے وقت تمام بل بورڈز کی لائٹنگ پر پابندی لگائے کیونکہ کاروبار بند کرنے سے معیشت کا نقصان ہوتا ہے۔آئی سی سی آئی رئیل کی رئیل اسٹیٹ کمیٹی کے کنوینر چودھری مسعود نے کہا کہ پراپرٹی پر نئے ٹیکسوں سے کاروباری سرگرمیاں تباہ ہو جائیں گی۔