مزید خبریں

پاکستانی مصنوعات کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، شیخ امتیاز حسین

کراچی (اسٹاف رپورٹر )نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) اور منسٹری آف انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن گورنمنٹ آ ف پاکستان کے اشتراک سے پروڈکٹیویٹی ،کوالٹی ٹولز اینڈ ٹیکنیکس کے عنوان کے تحت کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز(کاٹی) میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا اس موقع پرکاٹی کے پریذیڈینٹ محمد سلمان اسلم ،جنرل سیکرٹری نہال اختر،سابق سینئروائس پریذیڈینٹ احمد شریف،پاکستان ایگریکلچر اینڈہارٹیکلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین، راشد عزیز،ذوالفقار دکن،امریکا پاکستان بزنس ڈیولپمنٹ فورم کے گلوبل سیکریٹری سید ناصر وجاہت، ریجنل ہیڈ این پی او کراچی معظم علی گھمرو،پروگرام کے ٹرنرینر ذوالفقار احمد،سید مرتضیٰ اشرف اورایڈوائزر منسٹر آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محمد عمرعلاوہ مختلف انڈسٹریز کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ایگریکلچر اینڈہارٹیکلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستانی منصوعات کے معیار کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے کوئی بھی مینوفیکچرنگ کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنا کر وسائل سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتی ہے جس سے کمپنی کوفائدہ ہوگا اور وہ ملکی معیشت میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے گی انہوںنے کہاکہ فرسٹ پروڈکٹیویٹی موومنٹ کے ساتھ پیدارواری صلاحیت کے علاوہ معیار اورجدید مشینری کے ذریعے پاکستانی منصوعات کا دنیا بھر میں منفرد مقام بنانے کے لیے کوشاں ہیں شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ جاپانی اور سوئزر لینڈ کی منصوعات کی طرح پاکستان میں بنائی جانے والی منصوعات کے معیار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) اور منسٹری آف انڈسٹریزاینڈ پروڈکشن گورنمنٹ آ ف پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے جو مختلف ورکشاپس اور سیمینار کے ذریعے جدید آئڈیاز سے متعلق آگاہی فراہم کر رہے ہیں انہوںنے کہاکہ کسی بھی کمپنی کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ آؤٹ پٹ کو ان پٹ سے تقسیم کر کے لگایا جاتا ہے اورآؤٹ پٹ عام طور پر مصنوعات اور خدمات کی قدر یا مقدار کے طور پر جانی جاتی ہے۔