مزید خبریں

کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ ، اووربلنگ سے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے ، امیر جماعت اسلامی کراچی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 14 سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور بلدیاتی ادارے بھی اس کے تسلط میں ہیں لیکن اس نے کراچی کے گمبھیر اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا اور کوئی بڑا پروجیکٹ مکمل نہیں کیا ۔ 14سال میں کراچی کے لیے ‘ جو 5ہزار ارب روپے کے فنڈ مختص کیے گئے ان سے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا ، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام اور معیاری سڑکیں تک نہیں بنائی گئیں ، صرف لسانیت اور عصبیت کے بیج بوئے گئے ، کراچی کو صرف مال بنانے اور کرپشن کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ، کے الیکٹرک بھی عوا م کو سخت گرمی میں ریلیف دینے کے بجائے شہریوں سے لوٹ مار کر رہی ہے ، اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے دہرے عذاب میں مبتلا کر کے رکھا ہوا ہے ، کراچی آج بھی پورے ملک کی معیشت چلا رہا ہے لیکن افسوس کہ اسے اس کا حق نہیں دیا جا رہا ہے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر اسے تباہ کیا اور پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے3 سال میں کراچی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ کراچی کی تعمیر و ترقی اور بہتری کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا ہے ، جماعت اسلامی ہی شہر کی ابتر حالت کو بدل سکتی ہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواران کی کامیابی عوام کے مسائل کے حل اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے ، حلقہ خواتین کی کارکنان و ذمے داران بلدیاتی انتخابی مہم میں اپنا بھر پورکردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعت اسلامی، ضلع قائدین کے تحت پی ای سی ایچ ایس کمیونٹی سینٹر اورضلع وسطی کے تحت ناظم آباد میں خواتین بلدیاتی کنونشن سے علیحدہ علیحدہ خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ ، امیر ضلع وسطی سیدوجیہ حسن ، رکن شوریٰ حلقہ خواتین کراچی ثمینہ مرسلین ، سابق رکن مرکزی شوریٰ صبوح طلعت و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب ناظمہ کراچی ثنا علیم ، انچارج شعبہ نشرو اشاعت ثمرین احمد ، ناظمہ ضلع وسطی مسرت جنید و دیگر خواتین ذمے داران بھی موجود تھیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی سرپرستی اور پشت پناہی کا عمل ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ دور حکومت میں بھی جاری ہے ، کے الیکٹرک نے اپنے منافع میں اضافے کے لیے تو مختلف حربے استعمال کیے لیکن عوام کو ریلیف دینے ،بدترین لوڈشیڈنگ سے نجات کے لیے اور اپنے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ، بارش کا پہلا قطرہ پڑتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کرنٹ سے بچائو کے لیے بجلی بند کی ہے لیکن کھمبوں میں ارتھنگ کا نظام نہیں بنایا جا رہا ،بجلی گیس سے پیدا کی جاتی ہے لیکن فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر صارفین سے ہر ماہ اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، ایک نجی کمپنی ہونے کے باوجود ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے اسی لیے اس نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے ، واحد جماعت اسلامی ہے جس نے کے الیکٹرک کی لوٹ مار اور ظلم و زیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے مقدمہ لڑا ہے ، پانی کے بحران ، شناختی کارڈ کے حصول اور شہر میں ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مسائل کے حل کی جدو جہد کی ہے اور عوام کو ریلیف دلایا ہے ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ماضی میں بھی صرف جماعت اسلامی نے ہی شہر کی تعمیر و ترقی کی ہے اور آئندہ بھی جماعت اسلامی ہی کراچی کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے لیے واحد آپشن ہے ،سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ تمام پبلک اداروں کو کرپشن کا گڑھ بنادیا گیا ہے افسوس کا مقام ہے کہ اہل کراچی نے اس صورت حال کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے جبکہ جماعت اسلامی سدھار کے وژن کے ساتھ میدانِ عمل میں مصروف ہے،جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے گزشتہ کئی سال میں عوام کے مسائل کے حل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، روزانہ پبلک ایڈ سیکرٹریٹ میں قائم عوامی مسائل بیٹھک میں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور اپنے مسائل کے لیے رجوع کرتے ہیں ، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کی کامیابی سے عوام کے مسائل حل ہوں گے ، ثمینہ مرسلین نے کہا کہ قیادت جب ایمان دار لوگوں کے ہاتھوں میں آتی ہے تو خوشحالی کے دروازے کھلتے ہیں۔عوام کا پیسہ عوام کو لوٹایا جاتا ہے۔نیکی اور خیر کی قوتوں کو طاقت ملتی ہے اور بدعنوانی، برائی،اور ظلم کا خاتمہ ہوتا ہے۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے۔ہماری پہچان خدمت ہے۔شہرکی تعمیر وترقی کے لیے ترازو کو ووٹ دیا جائے ،جماعت اسلامی کو ووٹ دے کرایمان کی شمع جلانے میں اپنا حصہ اداکریں۔ صبوح طلعت نے کہا کہ گھر سے باہر لگی آگ بجھانے میں اگر اپنا حصہ نہ ڈالیں گے تو ہمارا گھر بھی زیادہ دیر تک اس آگ سے محفوظ نہ رہے گا۔ بندگی اسی کا نام ہے کہ اپنے پورے نظا م انفرادی اجتماعی معاملات کو اللہ اور اس کے رسول کے تابع کیا جائے ،آج ہمارے بچوں کو خطرات لاحق ہیں کہ ہمارا دین اور ہماری بندگی داؤ پر لگ گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو چنا ہے اب خود کو ا س کا اہل ثابت کرنا ہماری ذمے داری ہے ،ہماری نسلوں کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے کیونکہ ہم پر وہ حکمران مسلط ہیں جو خوفِ خدا سے عاری ہیں۔