مزید خبریں

بھارتی حکومت کی پاکستان آنے والے سکھوں کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی

 

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی حکومت نے پاکستان آنے والے سکھ اور ہندویاتریوں کو کسی بھی پاکستانی شہری کے مہمان بننے پر بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دے دی،بھارتی اداروں کی طرف سے یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب بھارت سے 495 سکھ یاتریوں کا جتھہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی منانے آج 21 جون کو پاکستان آرہا ہے۔ بھارتی حکومت نے پاکستان آنے والے سکھ اور ہندویاتریوں کے لیے ایڈوائزی جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ سکھ اور ہندو پاکستان میں کسی بھی پاکستانی شہری کے مہمان نہیں بنیں گے بصورت دیگر مہمان نوازی قبول کرنیوالے یاتریوں کو آئندہ کے لیے بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستی حکومتوں کو تحریری ہدایات جاری کی ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے پاکستان جانے والے سکھ اور ہندو یاتریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی پاکستانی شہری کے ذاتی مہمان نہیں بنیں گے اور خود کو صرف متعلقہ گردوارہ اور مندر تک محدود رکھیں گے۔ تمام ریاستی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں متعلقہ سکھ اور ہندو تنظیموں کو اس بارے آگاہ کریں ، خلاف ورزی کرنیوالے یاتریوں کو آئندہ کے لیے بلیک لسٹ قراردے دیا جائے گا۔ ادھر پاکستان سکھ گورودوارہ پر بندھک کمیٹی نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم مہمان نواز ہے، اپنے گھر آنیوالوں کو عزت اور احترام دینا ہمارے خون میں شامل ہے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومتی ایسے ہتھکنڈوں سے نفرتوں کے بیج بوناچاہتی ہے ، پاکستان بھارتی کی طرف سے کرتارپور راہداری کے راستے گورودوارہ دربارصاحب آنیوالے بھارتی اور پاکستانی یاتریوں کے میل ملاپ کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کوبھی مسترد کرچکا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان آنیوالے سکھ اور ہندویاتری اپنے مذہبی اور مقدس مقامات کی یاترا کے علاوہ پاکستان میں اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے مہمان بھی بنتے ہیں، جب کہ کئی یاتریوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہاں پاکستان میں اپنے آباؤ اجداد کے آبائی گاؤں، علاقے کو دیکھ سکیں۔