مزید خبریں

امریکی عدالت عظمیٰ نے شہریوں کو کھلے عام مسلح رہنے کی اجازت دیدی

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت عظمیٰ نے نیویارک کے ریاستی قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شہریوں کو عوامی مقامات پر بھی اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں عوامی مقامات پر لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔ 3کے مقابلے میں 6ججوں کی اکثریت سے دیے گئے فیصلے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ نیویارک ، لاس اینجلس اور بوسٹن جیسے بڑے شہروں میں اب کہیں زیادہ لوگ اسلحہ لے کر گھومیں گے۔ نیو یارک کے 1913 ء کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص عوامی مقام پر اسلحہ لے کر گھومنے کی اجازت چاہتا ہے تو اسے اس کے لیے ٹھوس وجہ بتانی پڑتی ہے۔ نیویارک کے علاوہ امریکا کی 6دیگر ریاستوں میں بھی اسی سے ملتے جلتے قوانین موجود تھے۔ ادھر امریکی صدر بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے شدید مایوس ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ عقل اور آئین دونوں سے متصادم ہے اور ہم سب کو اس پر شدید تشویش ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریاستوں پراس حوالے سے نئے قوانین منظور کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہری گن سیفٹی کے لیے آواز بلند کریں ،کیوںکہ لاکھوں زندگیاں داؤپر لگی ہیں۔دوسری جانب امریکی سنیٹروں نے گن کنٹرول کے حوالے سے 33 کے مقابلے میں 65 ووٹوں سے بل کی منظوری دے دی۔ امید ہے کہ ایوان نمایندگان میں بھی یہ بل پاس ہو جائے گا۔