مزید خبریں

فیٹف اجلاس،اہداف مکمل ،پاکستان پھر بھی گرے لسٹ میں برقرار

برلن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں)فیٹف اجلاس،پاکستان تمام اہداف مکمل کرکے بھی گرے لسٹ میں برقرار۔تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے چار روزہ اجلاس کے بعد کہا ہے کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے منگل کو جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہونے والے چار روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں، تاہم پاکستان کو ابھی گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔ مارکس پلیئر نے مزید بتایا کہ پاکستان کو اس فہرست سے نکالا جائے گا اگر یہ مقامی دورے میں کامیاب ہوتا ہے۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم رواں سال اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق اعلان اس کے بعد کیا جائے گا۔مارکس پلیئر نے پاکستان کی جانب سے کی گئیں اصلاحات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر مؤثر طریقے سے قابو پالیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کیے گئے دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنما اور کمانڈرز کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر 2021 میں وقت سے قبل ہی عمل کر لیا تھا۔یاد رہے کہ پاکستان کو سنہ 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ بنایا گیا تھا اور مارچ 2022 میں ہونے والے نظرثانی اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیشرفت کی ہے تاہم چند نکات پر مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔ برلن میں ایف اے ٹی ایف کے 13 جون سے 17 جون تک جاری رہنے والے ایک پلینری اجلاس میں 206 ممبر ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک، اقوامِ متحدہ اور اگمونٹ گروپ آف فنانشل یونٹس بھی اجلاس میں بطور مبصر شامل تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِ مملکت برائے خارجہ اْمور حنا ربانی کھر کر رہی تھیں جو فی الحال جرمنی کے شہر برلِن میں موجود ہیں۔ اپنے دورے کے دوران انھوں نے موجودہ اور سابقہ ایف اے ٹی ایف کے نمائندگان اور سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں۔علاوہ ازیںوزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے پاکستان کے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار دے دیا ہے۔فیٹف اجلاس کے سلسلے میں جرمنی کے شہر برلن میں موجود حنا ربانی کھر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں کو سراہا ہے، ہماری کامیابی 4 سال کے مشکل سفر کا نتیجہ ہے۔حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس رفتار کو جاری رکھنے، معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج تمام پاکستانیوں کیلیے خوشی کا دن ہے، قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، فیٹف نے پاکستان کو تمام نکات پر کلیئر کردیا ہے جس کے بعد فیٹف پروسیجر کے تحت پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، توقع ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب فیٹف پروسیجر کے مطابق ایک تکنیکی جائزہ ٹیم پاکستان بھیجی جائے گی، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ یہ ٹیم اکتوبر 2022 کے فیٹف پلینری سائیکل سے پہلے اپنا کام مکمل کرے اور ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی اکتوبر 2022 میں ہمارا فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل اختتام کو پہنچے گا۔حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ جس نے گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ لینا ہے لے لے، ہمیں فرق نہیں پڑتا، سفارتی محاذ پر بڑی محنت کی، ہمارا کام پاکستان کو مشکل سے نکالنا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں عمران خان کا کہنا تھاکہ فروری 2018 میں پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ میں ڈالا گیا، ہم حکومت میں آئے تو بلیک لسٹ میں جانے کا شدید خدشہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب تک کا سب سے چیلنجنگ ایکشن پلان دیاگیا اور ہم نے فیٹف کے 34 میں سے 32 ایکشن آئٹمز کو مکمل کیا جس ہر فیٹف نے بارہا میری حکومت کے کام اور سیاسی عزائم کی تعریف کی۔عمران خان کا کہنا تھاکہ حماد اظہر، فیٹف رابطہ کمیٹی اور افسران نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان پر کام مکمل ہونے کی تصدیق کیلیے فیٹف ٹیم پاکستان کا دورہ کریگی اور مجھے یقین ہے فیٹف ٹیم کا دورہ بھی کامیابی سے مکمل ہوگا۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے دور میں وزیر خارجہ رہنے والے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی گرے لسٹ سے نکلنے پر قوم کو مبارک باد دیتا ہوں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ پاکستان اب گرے لسٹ میں نہیں ہوگا، فیٹف کا دورہ پاکستان رسمی ہوگا، فیٹف کی تمام شرائط پر عمل درآمد ہوگیا ہے، فیٹف اکتوبر میں باضابطہ اعلان کرے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہوا تھا، تمام شرائط پرعمل ہوگیا، اب گرے لسٹ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔ادھرسابق وزیر خزانہ شوکت ترین کاکہناہے کہ گرے لسٹ سے نکلنا پی ٹی آئی کی حکومت اور حماد اظہر کے سر ایک اور سہرا ہے۔اب فیٹف سے نکلنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کیوں تبدیل ہوئی،گزشتہ دو سال میں مضبوط معاشی پالیسی اور کورنا کیخلاف جنگ میں کامیابی ہماری حکومت کا خاصہ تھا۔ شوکت ترین نے ٹویٹر پرٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ میاں صاحب عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی ٹیم کو روس جانے دیں،ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کرائیں اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائیں۔