مزید خبریں

سرکاری مشینری کے استعمال سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھ چکے ہیں

سکھر (نمائندہ جسارت)سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کے سینئر وائس چیئرمین غلام مصطفی پھلپوٹو نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں منتخب نمائندے، افسران اور انتظامیہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی کامیابی کیلئے کھلے عام انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں،سرکاری مشینری کے استعمال سے انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائے جانیوالے ضوابط کی سرے عام دھجیاں اڑائی جا رہی ہیںجس کا کوئی بھی نوٹس لینے کو تیار نہیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان،ا لیکشن کمیشن آف سندھ اس کا نوٹس لیکر انتخابی مہم میں حصہ لینے والے اراکین اسمبلی اور افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں اور جس امیدوار کے حلقے میں منتخب نمائندے اور افسران انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں اس امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں غلام مصطفی پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت ووٹ کی طاقت سے نہیں بلکہ دھاندلی کے ذریعے انتخابات جیتنا چاہتی ہے۔ مخالف امیدواروں کو دھونس، دھمکیوں اور بلاجواز اعتراضات دائر کر کے ان کے فارم رد کروانے کے بعد اب منتخب نمائندے اور افسران کھلے عام حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی کامیابی کیلئے خود میدان میں آچکے ہیں،جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائے جانیوالے ضوابط کے تحت کوئی بھی حکومتی ارکان، منتخب نمائندہ یا افسران کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا، اس کے باوجود گزشتہ دنوں رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے انتخابی حلقوں کا دورہ کر کے ووٹرز کی حمایت حاصل کی گئی جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی نشر ہوئی لیکن اس کے باوجود حکومت اور الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی بھی نوٹس نہیں لیا جس سے الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں، انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سکھر میں منتخب نمائندوں کی جانب سے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کا نوٹس لیکر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور افسران کو بھی پابند بنایا جائے کہ وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں بصورت دیگر اس کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمے داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوگی۔