مزید خبریں

Jamaat e islami

نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے اجلاس میں مطالبات

نیشنل لیبرفیڈریشن کراچی خالدخان کی صدارت میں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں جنرل سیکرٹری قاسم جمال، نائب صدرمحمد سلیم، جوائنٹ سیکریٹری امیرروان و دیگر عہدیداران شریک تھے ۔ صدر خالد خان نے کہاکہ سندھ کی مینمم ویج بورڈ/ سوشل سیکورٹی (سیسی) کی گورننگ باڈی کے ممبران نے کراچی پریس کلب پر مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ جس میں ان حکومت سندھ، لیبر ڈائریکٹوریٹ، ویلفیئربورڈ، سوشل سیکورٹی پر شدید کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے شدید دبائو ڈالا ۔ مزدوروں کے ساتھ سب سے بڑا مذاق یہ ہواکہ سیکرٹری لیبرنے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ان افراد کو دوبارہ مینمم ویج بورڈ کی گورننگ باڈی کا ممبربنادیا۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کم سے کم اجرت 25 ہزار کے بجائے 19 ہزارروپے کم ازکم مینمم ویج بورڈ کے مزدوروں کے نمائندوںنے دستخط کیے یہی وہ لوگ ہے جوہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود مینم ویج بورڈسے 25 ہزارپردستخط نہیں کرواسکے ۔نیشنل لیبرفیڈریشن کراچی یہ محسوس کرتی ہے کہ یہ افراد ویلفیئربورڈ ،مینمم ویج بورڈ ،سوشل سیکورٹی،
لیبرڈائریکٹوریٹ میں محنت کشوں کے خلاف فیصلے کرپشن اور دیگربدعنوانی میں ملوث ہے ۔ پریس کانفرنس کرنے کے بعدان گورننگ باڈیوں میں بکنے والوں کو کراچی کا محنت کش اچھی طرح پہچان گیا۔نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی ان عناصراوراداروں کے خلاف جدوجہدکررہی ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کایہ شروع سے موقف رہاہے کہ گورننگ باڈیوں میںحقیقی مزدور رہنمائوں کو شامل کیا جائے۔ خاص طور پر پلانٹ لیول کے مزدور رہنمائوں کو جن کو پتہ ہے کہ مزدوروںکے مسائل کیا ہیں اوران کوکیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ وہ روزانہ کی بنیادپریہ تمام مسائل جھیلتے ہیں۔نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی سیسی کی جعلی گورننگ باڈی کیخلاف ایک آئینی درخواست نمبرD-2773/2021 سندھ ہائی کورٹ میںزیرسماعت ہے۔ ہمیں امیدہے کہ ہم اپنے اس درست موقف پرضرور کامیاب ہوں گے۔